دھیر کوٹ،طالبہ زیادتی کیس، متاثرہ بچی کو تنہا نہیں چھوڑوں گی :زوبیہ خورشید

دھیرکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل) رکن قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر زوبیہ خورشید راجہ نے ساہلیاں دھیرکوٹ میں آٹھویں جماعت کی طالبہ کیساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے بڑا قدم اُٹھا لیا۔اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ پولیس افسران اور متاثرہ بچی کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ 

  زوبیہ خورشید راجہ نے ڈی ایس پی دھیرکوٹ راجہ انصر اور ایس ایچ او تھانہ پولیس ساہلیاں سردار رفاقت عباسی سے ملاقات کے دوران کیس کی پیش رفت اور اب تک ہونے والی کارروائی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:زوبیہ خورشید راجہ لاک ڈاؤن میں بہادری اور حوصلے کی مثال بن گئیں

 انہوں نے متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت دی کہ واقعے کی تفتیش غیر جانب دارانہ انداز میں مکمل کی جائے اور قانون کے تقاضوں کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ زوبیہ خورشید راجہ نے متاثرہ بچی اور اس کے خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

 انہوں نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ اس مشکل مرحلے پر وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں اور انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گی۔رکن اسمبلی نے کہا کہ ایسے واقعات کے بعد متاثرہ بچے کو جذباتی سہارا دینے، اس کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اعتماد کی بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

 بچی کو ایسا سازگار ماحول فراہم کیا جانا چاہیے جہاں وہ خوف اور دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی بچی کے ساتھ پیش آنے والا ایسا افسوس ناک واقعہ محض ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری سے بھی جڑا ہوتا ہے۔

 ایسے حالات میں متاثرہ بچے کو تنقید، الزام تراشی یا شرمندگی کا سامنا کرانے کے بجائے اس کے ساتھ عزت، شفقت اور احترام سے پیش آنا چاہیے۔زوبیہ خورشید راجہ کے مطابق متاثرہ بچی کی شناخت، نجی زندگی اور عزتِ نفس کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

متعلقہ اداروں اور خاندان کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بچی کو ضروری معاونت میسر ہو اور کسی بھی قسم کا ایسا دباؤ نہ پڑے جو اس کی ذہنی صحت یا مستقبل پر منفی اثر ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے شفاف تفتیش، قانون کی بالادستی اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کریں اور اگر کسی کی ذمہ داری ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

متاثرہ بچی سے گفتگو کرتے ہوئے زوبیہ خورشید راجہ نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی۔

 انہوں نے بچی کو یقین دلایا کہ اس کی شخصیت، عزت اور مستقبل اس واقعے سے کہیں زیادہ اہم ہیں اور اسے خوف کے بجائے محبت، تحفظ اور اعتماد کے ماحول میں زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متاثرہ بچی اور اس کے خاندان کو انصاف کے حصول کیلئے درکار تعاون فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اُٹھائیں گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پولیس اہلکار کی جان بچانے والی زوبیہ خورشید راجہ کو تمغہ شجاعت دینے کی منظوری

 ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کے ہر فرد اور متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کریں، متاثرہ بچوں کی بات سنیں اور ان کے حقوق کے دفاع میں مؤثر ساتھ دیں۔