اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف اور مبینہ مالی معاملات سے متعلق سنگین الزامات سامنے آگئے ہیں۔
معتبر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان ابتدا میں مجوزہ آئینی ترمیم کی حمایت پر آمادہ نہیں تھے، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر مالی مفادات کے تحت حمایت پر رضامند ہوئے۔
دستیاب فراہم کردہ معلومات کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے مبینہ طور پر دبئی میں مولانا فضل الرحمان کو پانچ ارب روپے اداکئے تاکہ 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت حاصل کی جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈی ڈی او درشہوار نقوی کی کتاب ’’ایلکمی آف مائنڈ ‘‘کی تقریب رونمائی،علمی شخصیات کی شرکت
تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان ابتدائی مرحلے میں 26ویں آئینی ترمیم کے مسودے اور اس کی بعض شقوں سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔
بعد ازاں سیاسی مشاورت اور مذاکرات کے نتیجے میں ان کی جماعت نے ترمیم کی منظوری کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
مبینہ ڈیل سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مبینہ طور پر حاصل ہونیوالی رقم سے اسلام آباد میں ایک رہائشگاہ خریدی گئی جبکہ لاہور کے مضافات میں ایک بڑے مدرسے کے قیام کیلئے زمین حاصل کی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور: تنظیم شہری دفاع میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، عہدیداران کے اجتماعی استعفے
کہ اس منصوبے کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے کیلئے بھی رہائش یا قیام کا انتظام کیا گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں متعدد جائیدادوں کی مبینہ منتقلی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ جائیدادیں 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت حاصل کرنے کیلئے دی گئیں جبکہ ان کی مزید تفصیلات بھی جلد سامنے لانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔




