میرپور: تنظیم شہری دفاع میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، عہدیداران کے اجتماعی استعفے

میرپور : تنظیم شہری دفاع میرپور میں نئی تعیناتی کے بعد شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عہدیداران نے اپنے عہدوں سے اجتماعی استعفیٰ دے دیا ہے۔   

تفصیلات کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر شہزاد کو بطور ایڈیشنل چیف وارڈن تعینات کیے جانے اور سابق ایڈیشنل چیف وارڈن فیصل منظور کے حوالے سے سرکاری نوٹیفکیشن میں مبینہ طور پر نا مناسب الفاظ کے استعمال پر اعتراض اٹھاتے ہوئے عہدیداران نے شدید احتجاج درج کرایا ہے۔

اور پڑھیں: اب نئی ہونڈا بائیکس آسان ماہانہ اقساط پر حاصل کریں

استعفے کی اہم وجوہات اور تحفظات:
قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی: عہدیداران نے الزام عائد کیا ہے کہ 16 اکتوبر کو کی جانے والی تعیناتی میں میرٹ اور تنظیمی ضوابط کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا اور سینئر عہدیداران کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ قدیم خدمات کو نظرانداز کرنا: تنظیم کے کچھ عہدیداران گزشتہ چار دہائیوں سے شہری دفاع کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، لیکن اس فیصلے میں ان کی کوئی مشاورت شامل نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حرمین شریفین اور سعودی عرب کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

نامناسب زبان پر اعتراض: نوٹیفکیشن میں فیصل منظور (سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری و معروف سماجی شخصیت) کے لیے استعمال ہونے والی زبان کو تنظیم کے وقار کے منافی اور قابلِ اعتراض قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں 4 ماہ بعد انٹرنیٹ سروسز بحال، شہریوں کا خوشی کا اظہار

عہدیداران کے مطالبات:
عہدیداران نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عمر شہزاد کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور معاملے کا ازسرنو میرٹ پر جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تنظیمی تحفظات دور ہونے اور میرٹ کی پاسداری کے بعد ہی استعفے واپس لینے پر غور کیا جائے گا۔