مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (کے آئی ایم) مظفرآباد میں سیدہ درشہوار نقوی، ڈپٹی ڈائریکٹر سکولز، کی کتاب’’ایلکمی آف مائنڈ‘‘کی ایک پروقار اور پرشکوہ تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔
اس تقریب میں سابق ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن سید سلیم گردیزی سمیت ممتاز دانشوروں، ادیبوں، مفکرین اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
تقریب میں کتاب کے ایڈیٹر سید مظفر حسین بخاری جو ایک ڈویلپمنٹ پروفیشنیل ہونے کے علاؤہ شاعر، ٹریولر اور فوٹوگرافر بھی ہیں نے کتاب کا جامع اور تفصیلی تعارف پیش کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کوہالہ انٹری پوائنٹس پر بڑی کارروائی،دیودار کے سلیپرز برآمد، ہائی ایس ضبط
اس کے بعد ایک فکر انگیز پینل ڈسکشن اور سوال و جواب کا ایک کاوش خیز نشست کا اہتمام کیا گیا۔پینل ڈسکشن کی نظامت کے فرائض قومی اور بین القوامی سطح پر معروف مصنف، نقاد اور فکرِ نو کے داعی جمشید اقبال نے انجام دیئے۔

پینل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے جن میں ماہرِ نفسیات ڈاکٹر انعم انجم، ماہرِ نفسیات ڈاکٹر اظہر، ماہرِ معشیات ڈاکٹر نثار ہمدانی، سابق ایڈیشنل سکرٹری تعلیم سلیم گردیزی اور ایڈیشنل سکرٹری ری ہیبلیٹیشن ندیم احمد جنجوعہ شامل تھے۔
پینلسٹس نے اس تصنیف کو عظیم فکری و علمی قدر کی حامل قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ قومی سطح پر اس موضوع میں پائے جانے والے ایک طویل خلا کو پر کرتی ہے۔
ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ یہ کتاب ایسے نازک وقت پر وقت کی اہم ترین ضرورت بن جاتی ہے جب جنریشن زی (Gen Z وجودی سوالات، شناخت کے بحران، اور ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل و خودکشی کے رجحانات میں الجھی ہوئی ہے۔
انہوں نے اس بات کو سراہا کہ یہ تصنیف آج کے نوجوانوں کیلئے ایک ضروری فکری و روحانی سہارا (اینکر) فراہم کرتی ہے۔
کتاب کے مرکزی پیغامات پر روشنی ڈالتے ہوئے چیئرمین آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ طفیل بخاری اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) مظفرآباد سید ریاض حیدر بخاری نے بھی خطاب کیا اور جدید علمی مکالمے میں اس کتاب کے موثر کردار کو اجاگر کیا۔
“ایلکمی آف مائنڈ انسانی شعور کی ماہیت کا ایک گہرا اور مربوط احاطہ کرتی ہے۔ یہ تصنیف ارتقائی حیاتیات اور نیورو سائنس سے لے کر نفسیات، کوانٹم فزکس، تصوف اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسے وسیع و عریض موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے ادراک و آگاهی پر ایک وسیع اور ہمہ جہت تحقیق پیش کرتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور: تنظیم شہری دفاع میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، عہدیداران کے اجتماعی استعفے
کتاب سائنسی باریکیوں اور فلسفیانہ عمق (گہرائی) کے درمیان ایک نایاب توازن برقرار رکھتی ہے، جو مادیت پسندی اور روحانی تفکر کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔
کتاب کا ہر باب شعور کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتا ہے: ارتقاء آگاهی کو جنم دیتا ہے، نیورو سائنس اس کے میکانزم کو روشن کرتی ہے، نفسیات اس کے ڈرامائی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، کوانٹم فزکس اس کی حد بندیوں پر سوال اٹھاتی ہے،

تصوف اس کی غیر مادی وسعتوں کو بے نقاب کرتا ہے، اور مصنوعی ذہانت اس کی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔
کوانٹم کونشسنیس مائنڈ اپ لوڈنگ، اور مصنوعی ذہانت کی بیداری جیسے قیاسی و سائنسی نظریات پر ذمہ دارانہ بحث کرتے ہوئے،’’ایلکمی آف مائنڈ‘‘ جامع اور ہم آہنگ تصنیف کے طور پر سامنے آتی ہے۔
جو سائنس اور روح کی دنیاؤں کو باہم جوڑتی ہے اور قارئین کو شعور کو بطور ایک سائنسی میدان اور ایک جیتے جاگتے انسانی تجربے کے طور پر دریافت کرنے کی دعوت دیتی ہے۔




