پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے بعد اوپننگ بیٹر امام الحق کو بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے۔
اتوار کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیم کے اوپننگ بیٹر امام الحق کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی ہے، جس کے بعد وہ پریزیڈنٹ ٹرافی کے آخری راؤنڈ میں او جی ڈی سی ایل کی نمائندگی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرائی سیریز: پہلے میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے ہرا دیا
امام الحق آج سے لاہور کے این سی سی اے گراؤنڈ میں غنی گلاس کے خلاف میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔او جی ڈی سی ایل نے امام الحق کی دستیابی کی تصدیق کر دی ہے جب کہ پی سی بی نے او جی ڈی سی ایل کو امام الحق کی اجازت سے آگاہ کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ امام الحق پریزیڈنٹ ٹرافی کے پہلے 5 راؤنڈز میں دستیاب نہیں تھے جب کہ وہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحقیقات کے باعث پہلے 5 راؤنڈز نہیں کھیل سکے تھے۔
قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ اور قومی کرکٹر محمد رضوان کے درمیان معاملات بہتر ہونے کے بعد وکٹ کیپر بیٹر کو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کی اجازت مل چکی ہے۔محمد رضوان پیر 19 اکتوبر سے شروع ہونے والے پریذیڈنٹس ٹرافی کے ساتویں اور آخری راؤنڈ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی قیادت کریں گے۔
سوئی ناردرن گیس کے ڈائریکٹر کرکٹ اور ہیڈ کوچ محمد حفیظ نے رضوان کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پی سی بی کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک اسامہ شیرون نیازی کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ ای میل موصول ہو چکی ہے۔
پریذیڈنٹس ٹرافی کا 4 روزہ میچ راولپنڈی کے شعیب اختر کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں ایس این جی پی ایل کا مقابلہ خان ریسرچ لیبارٹریز سے ہوگا۔ محمد رضوان رواں سیزن میں پہلی مرتبہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لیں گے۔
34 سالہ محمد رضوان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اگست 2026 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ 194 رنز سے ہارنے کے بعد پی سی بی نے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان واپس بلا لیا تھا۔
دورہ انگلینڈ کے دوران دوسرے ٹیسٹ کے بعد رضوان کو وطن واپس بھیجنے کے معاملے کے بعد ان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت بھی زیر بحث رہی۔ ابتدا میں پی سی بی کے ایک ذریعے کے مطابق انہیں پری سیزن فٹنس ٹیسٹ میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے پریذیڈنٹس ٹرافی میں کھیلنے کا اہل قرار نہیں دیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ این سی سی آئی اے کی جاری تحقیقات کے باعث بھی انہیں ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت نہیں ملی تھی۔
اطلاعات کے مطابق پی سی بی اور محمد رضوان کے درمیان معاملات بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ رضوان بھی مزید محاذ آرائی کے بجائے اپنی کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے بورڈ سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت طلب کی تھی۔
محمد رضوان پاکستان واپسی کے بعد نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے دو مرتبہ پیش ہونے کے لیے طلب کیے جا چکے ہیں۔ ادارہ پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
لاہور میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پہلی پیشی کے بعد محمد رضوان نے ادارے کی تحقیقات کی نوعیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اپنا موبائل فون واپس کرنے کی درخواست بھی کی تھی، تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی جب کہ رواں ماہ کے آغاز میں ادارے کے لاہور دفتر میں دوسری مرتبہ پیش ہونے سے قبل رضوان نے این سی سی آئی اے کو خط لکھ کر تحقیقات کے حوالے سے اس کے مؤقف میں تبدیلی پر وضاحت طلب کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان سوئی ناردرن کی قیادت کریں گے
پاکستانی اوپنر امام الحق بھی این سی سی آئی اے کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کا موبائل فون تاحال ادارے کی تحویل میں ہے۔
امام الحق کو بھی محمد رضوان کی طرح پریذیڈنٹس ٹرافی میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم رضوان نے ادارے کے طرز عمل کو عدالت میں چیلنج کیا جب کہ امام الحق نے اس معاملے پر قانونی کارروائی نہیں کی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق خبر فائل کیے جانے تک پی سی بی کی جانب سے امام الحق کو ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔




