راولاکوٹ (خصوصی رپورٹ: کشمیر ڈیجیٹل): آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ چار ماہ سے ہڑتالوں، پہیہ جام، لاک ڈاؤن اور عوامی زندگی کو مفلوج کر کے شدید انتشار پھیلانے والی کالعدم ایکشن کمیٹی بالآخر اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر گھٹنوں پر آ گئی ۔
دشمن ملک انڈیا کے بیانیے کی طرز پر’’ریاست سے علیحدگی‘‘ اور’’الگ ریاست‘‘کے پرفریب اور خطرناک نعروں سے اپنے تحرک کا آغاز کرنے والی اس کمیٹی کو جب عامۃ الناس نے یکسر مسترد کر دیا تو اب اس کے مرکزی ارکان اور قائدین اپنی شدید سیاسی و اخلاقی خفت مٹانے، قانونی کارروائی سے بچنے اور کسی نہ کسی طرح ’’فیس سیونگ‘‘ (عزت بچانے کا راستہ) حاصل کرنے کیلئے منتوں، ترلوں اور التجاؤں پر اتر آئے ہیں۔
’’چار ماہ کا تشدد، لاک ڈاؤن اور عوامی مشکلات‘‘
آزاد کشمیر بھر میں گزشتہ چار ماہ کا عرصہ عام شہریوں، تاجروں، دہاڑی دار طبقے اور بالخصوص طلبہ کیلئے انتہائی کٹھن اور مشکل ثابت ہوا۔ کالعدم ایکشن کمیٹی نے مختلف عوامی اور حقوق کے مطالبات کا کور لے کر مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ شروع کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تحرک کا اصل رخ تبدیل ہوتا چلا گیا۔
روزمرہ کے کاروبار کی زبردستی بندش، شاہراہوں کی Scripted نامسدودی اور تعلیمی اداروں کی تالہ بندی نے آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں بالعموم اور راولاکوٹ و مظفرآباد میں بالخصوص زندگی کا پہیہ جام کر دیا تھا۔
چار ماہ تک مسلسل لاک ڈاؤن کے باعث جہاں ایک طرف مقامی معیشت کو اربوں روپے کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، وہیں دوسری طرف مریضوں کی ہسپتالوں تک رسائی، غذائی اجناس کی نقل و حمل اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے غریب طبقے کی روزی روٹی شدید متاثر ہوئی۔
’’عوامی ردعمل اور کالعدم کمیٹی سے لاتعلقی کی لہر‘‘
کالعدم ایکشن کمیٹی کے قائدین اور ممبران کی جانب سے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران آزاد کشمیر کی عوام، تاجر برادری اور نوجوانوں سے بار بار اپیلیں کی گئیں کہ وہ ان کی ہڑتالوں اور پہیہ جام کا ساتھ دیں۔ کمیٹی کے ممبران نے عوامی جذباتی تسکین کے لیے مختلف نعرے تراشے، لیکن عوام نے وقت کے ساتھ ساتھ اس انتشاری ٹولے کے اصل ایجنڈے کو بھانپ لیا۔
نتیجتاً، آزاد کشمیر کے طول و عرض سے عوام نے رفتہ رفتہ اس کالعدم ایکشن کمیٹی سے مکمل دوری اختیار کرنا شروع کر دی۔ آزاد کشمیر کے شعور مند تاجروں، صنعتکاروں، وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور باشعور نوجوانوں نے پریس کانفرنسز اور احتجاجی اجتماعات کے ذریعے اس انتشاری ٹولے کے بائیکاٹ اور مکمل لاتعلقی کے باضابطہ اعلانات کر دیئے۔
آئے روز آزاد کشمیر بھر سے تاجر تنظیموں کی جانب سے دکانیں کھلی رکھنے اور احتجاجی کالز کو مسترد کرنے کے اعلانات نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
’’بھارتی بیانیے کا پراپیگنڈا اور ریاست سے علیحدگی کے نعرے‘‘
باوثوق ذرائع کے مطابق، کالعدم ایکشن کمیٹی نے تحرک کے دوران تمام حدیں پار کرتے ہوئے اس بیانیے کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جو ہمیشہ سرحد پار یعنی بھارت میں بیٹھے پاک دشمن عناصر اور ان کے میڈیا کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔
کمیٹی کے بعض ضمیر فروش اور جذباتی عناصر نے ’’ریاست سے علیحدگی‘‘و’’الگ ریاست‘‘جیسے پرفریب اور شرپسندانہ نعرے بلند کئے جس کا مقصد آزاد کشمیر کے شہریوں اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط نظریاتی، جغرافیائی اور جذباتی رشتے میں دراڑ ڈالنا تھا۔
بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہینڈلز نے بھی اس کالعدم کمیٹی کے اقدامات اور نعروں کو اچھال کر عالمی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ آزاد کشمیر کے عوام ریاست سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔
تاہم، آزاد کشمیر کی غیرت مند عوام نے بھارتی پالیسی اور اس کے مقامی آلاتِ کار کے اس بھیانک کھیل کو وقت پر پہچان لیا اور شدید نفی کر کے اس بیانیے کو ڈسٹ بن کی نذر کر دیا۔
’’ شکست و وریخت اور بند گلی کا شکار‘‘
عوام کے شدید ردعمل، تاجر برادری کی لاتعلقی اور عام شہریوں کی جانب سے بائیکاٹ کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کا مؤقف تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ جو لوگ کل تک ہٹ دھرمی، تکبر اور رياست کو بلیک میل کرنے کے زعم میں مبتلا تھے، آج وہ مکمل طور پر ایک بند گلی میں جا پہنچے ہیں۔
عوامی حمایت ختم ہونے کے بعد جب کمیٹی کے ممبران کو گلی محلوں میں بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، تو ان کے پاس نہ تو تحرک کو آگے بڑھانے کا کوئی جواز باقی رہا اور نہ ہی اسے عزت کے ساتھ ختم کرنے کا کوئی راستہ بچا۔ اس صورتحال نے کمیٹی کی تمام قیادت کو ایک شدید ذہنی و سیاسی دباؤ میں مبتلا کر دیا، جس کے بعد وہ اپنے ہی بتائے ہوئے اصولوں اور نعروں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
’’پاؤں پکڑنے پر مجبوری اور صدر آزاد کشمیر سے رابطہ‘‘
باوثوق ذرائع نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ عوامی سطح پر منہ کی کھانے کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی کے ارکان اب اپنے ہی طے کردہ بھارتی بیانیے سے فرار اختیار کر کے ریاست کے پاؤں پکڑنے اور قانونی و انتظامی کارروائی سے بچنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، کمیٹی کے ممبران نے جب دیکھا کہ عوامی حمایت کا سورج غروب ہو چکا ہے اور ریاست کا آہنی ہاتھ ان کی غیر قانونی و انتشاری سرگرمیوں کا حساب لینے کے لیے تیار ہے، تو انہوں نے فیس سیونگ (عزتِ نفس کی بحالی) کے لیے صدرِ ریاست آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر نجیب نقی سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے نمائندے اس وقت صدر آزاد کشمیر ڈاکٹر نجیب نقی کے سامنے منت زاری اور التجا کر رہے ہیں کہ ان کے خلاف سخت قانونی ایکشن نہ لیا جائے اور انہیں کسی بھی صورت عزت کے ساتھ تحرک ختم کرنے کا راستہ (Face Saving) فراہم کیا جائے۔
صدرِ ریاست تک رسائی کیلئے’’ پسِ پردہ‘‘ کوششیں
اپنے خلاف بننے والے شدید عوامی غم و غصے اور قانونی شکنجے کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے کالعدم کمیٹی کے مرکزی ارکان نے ایوانِ صدر تک رسائی کے لیے مختلف بااثر اور باوثوق ذرائع، سیاسی رابطوں اور درمیانے راستوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ارکان اب اپنے پرانے اور تیکھے مطالبات سے یکسر دستبردار ہو کر صرف اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ صدر آزاد کشمیر ڈاکٹر نجیب نقی ان کی سن لیں اور کسی درمیانی فارمولے کے تحت ان کا سیاسی وجود برقرار رہنے دیں تاکہ وہ عوام میں منہ دکھانے کے قابل رہ سکیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق، ریاست اور عوام دونوں اب اس بات پر متفق ہیں کہ امن و امان کی قیمت پر کسی انتشاری ٹولے کو کوئی رعایت نہیں دی جانی چاہیے۔
’’ پس منظر اور موجودہ صورتحال کا تجزیہ‘‘
آزاد جموں و کشمیر اپنی خوبصورتی، پرامن ماحول اور پاک فوج کے ساتھ گہرے اور جذباتی رشتے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران جنم لینے والے اس بحران کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر بجلی کے بلوں، آٹے کی قیمتوں اور دیگر مقامی مسائل کے نام پر ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
ابتدائی مرحلے میں عوام نے اپنے جائز مطالبات کے پیشِ نظر اس کمیٹی کا ساتھ دیا، لیکن جیسے ہی اس کمیٹی کے باگ ڈور چند شرپسند اور ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں گئی، اس کا رخ بنیادی مسائل کے حل سے ہٹ کر ریاست مخالف اور بھارتی پروپیگنڈے کی ترجمانی کی طرف موڑ دیا گیا۔
لاک ڈاؤن کی طوالت اور تاجروں کے ساتھ تشدد و زبردستی کے واقعات نے عوام کا دل اس کمیٹی سے کھٹا کر دیا۔ جب تاجروں اور عوام نے دیکھا کہ ان کے روزگار کو تباہ کر کے دشمن کے بیانیے کو تقویت دی جا رہی ہے، تو انہوں نے یکلخت اس کمیٹی سے ہاتھ کھینچ لیا۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے تمام بڑے شہروں راولاکوٹ، مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور باغ میں زندگی معمول پر آ چکی ہے، بازار کھل چکے ہیں اور ٹریفک کی روانی بحال ہے۔
دوسری جانب، چار ماہ تک عوام کو یرغمال بنانے والی کالعدم ایکشن کمیٹی مکمل طور پر الگ تھلگ ہو کر اب صرف اپنی سیاسی بقا اور گرفتاریوں سے بچنے کے لیے ایوانِ صدر کے چکر کاٹنے اور منتیں ترلے کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔




