بینک آف آزادکشمیر کی بیلہ نور شاہ ، گڑھی بن چو ک کی کرائے کی عمارتوں پر سوالات اٹھ گئے

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل )بینک آف آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے بیلہ نور شاہ اور گڑھی پن چوک میں عمارتیں کرائے پر حاصل کرنے کے معاملے پر اہم سوالات اٹھ گئے۔ 

اطلاعات کے مطابق دونوں عمارتوں کے مالکان کو  ایک کروڑ اور اسی لاکھ روپے ایڈوانس جبکہ پانچ، پانچ لاکھ روپے ماہانہ کرایہ ادا کرنے کے معاہدے کئے گئے۔

ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر گزشتہ پانچ سال سے عمارتیں خالی ہونے کے باوجود کرایوں کی ادائیگی جاری ہے

بینک کی اپنی عمارت تقریباً چار سال قبل مسمار کئے جانے کے بعد تاحال نئی عمارت کی تعمیر یا دستیابی ممکن نہیں ہو سکی۔جس کے باعث بینک کو مختلف مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گرین بسیں سڑکوں پر نہ چل سکیں، اربوں روپے کا منصوبہ ضائع ہونے کا خدشہ

ذرائع کے مطابق بلدیہ مظفرآباد کے پلازے میں بھی بینک کرائے پر قائم ہے، جہاں ماہانہ تین لاکھ روپے کرایہ ادا کیاجارہاہے۔

ایسے حالات میں خالی عمارتوں کیلئے بھاری ایڈوانس اور ماہانہ کرایوں کے معاہدوں کی کیاضرورت تھی؟ ان عمارتوں کے استعمال اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ عمارتوں میں بینک کے مختلف ڈیپارٹمنٹ کی منتقلی کیلئے سابق چیئرمین بنک کےفرنٹ مین نے مرکزی کرداراداکیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جاگراں ہائیڈل پاور پراجیکٹ کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں گے : راجہ ثاقب مجید

عوامی حلقوں نے بینک انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں عمارتوں کے کرایوں، ایڈوانس ادائیگیوں، معاہدوں اور گزشتہ پانچ سال کے دوران عمارتیں خالی رہنے کے اسباب کی تفصیلات سامنے لائی جائیں اور ملوث ملازمین کےخلاف کاروائی کی جائے۔