میٹا نے 2 نئے اے آئی ماڈلز ‘میوز ونڈو’ اور ‘میوز ونڈر فل’ متعارف کرا دیے

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا نے اپنے 2 نئے فلیگ شپ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈلز “میوز ونڈو” اور “میوز ونڈر فل” باضابطہ طور پر متعارف کرا دیے ہیں۔

یہ دونوں نئے ماڈلز میٹا کے “میوز اسپارک” اے آئی ماڈل پر بنیادی طور پر مبنی ہیں، جس کو رواں سال 2026 میں ہی متعارف کرایا گیا تھا۔ میٹا نے ان دونوں نئے ماڈلز کو اب تک کے سب سے بہترین ماڈلز قرار دیا ہے، جو پرسنل اور پروفیشنل ایجنٹک ٹاسک باآسانی اور مؤثر طریقے سے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

پریمیئم رسد، فیچرز اور ماہانہ سبسکرپشن:

ان ایڈوانسڈ ماڈلز تک رسائی ماہانہ مقررہ فیس ادا کرنے والے صارفین کو فراہم کی جائے گی۔ بنیادی طور پر میٹا کی جانب سے ان ماڈلز کو اے آئی کے شعبے میں جاری عالمی دوڑ میں انتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل جیسی کمپنیوں کے برابر آنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے میوز ونڈر کو اسٹیٹ آف دی آرٹ پریمیئم اے آئی ماڈل قرار دیا گیا ہے، جو سب سے پہلے میٹا ماڈل اے پی آئی کو فیس ادا کرنے والے کوڈرز کو دستیاب ہوگا۔ اس کا سب سے کم قیمت سبسکرپشن پلان 20 ڈالرز جبکہ سب سے زیادہ 100 ڈالرز ماہانہ کا طے کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ایڈوانسڈ فیچرز اور بہترین پراسیسنگ پاور سے لیس اے آئی ماڈل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل سگنلز کمزور؟ پی ٹی اے کا صارفین کو اہم مشورہ

اس ماڈل میں “ایکٹیو میموری” اور “ایکٹیو فوکس” نامی 2 جدید فیچرز موجود ہیں۔ ایکٹیو میموری ماڈل کو اس سے قبل کی جانے والی تمام چیٹس کی تفصیلات کو یاد رکھنے اور ان تک رسائی میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ماڈل کو صارفین کی نجی تفصیلات بغیر اجازت کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے روکنے کی خصوصی ٹریننگ دی گئی ہے تاکہ صارفین کی پرائیویسی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ دوسری جانب ایکٹیو فوکس اے آئی ایجنٹ کو پیچیدہ اور تکنیکی کام انجام دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

علاوہ ازیں، “میوز ونڈر فل” کو اس سے بھی زیادہ طاقتور اور جدید قرار دیا گیا ہے جس میں مزید نئے فیچرز بھی موجود ہیں، مگر یہ ماڈل بنیادی طور پر بڑی کمپنیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ فی الوقت صرف ڈویلپرز کو ہی دستیاب ہوگا جس کی ماہانہ فیس 50 سے لے کر 200 ڈالرز کے درمیان رکھی گئی ہے۔

ماہرین کے تحفظات اور مارک زکربرگ کا موقف:

دوسری جانب، متعدد محققین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے اس نئی ٹیکنالوجی کی گہری جانچ پڑتال اور ریگولیشن پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتھروپک اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹوز نے بھی نئے اے آئی ماڈلز کی تیاری کی موجودہ رفتار کو سست کرنے کا کھلم کھلا مطالبہ کیا ہے۔

مگر میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے آئی کمپنیاں خود اے آئی کے بدترین اثرات کی روک تھام آسانی سے کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ ذمہ داری کے ساتھ اے آئی ماڈلز تیار کریں تو مسائل کا سامنا نہیں ہوگا’۔