تعلیمی پیکج 2026 کو ری وزٹ کرنے کے کابینہ فیصلے کے خلاف دائر سردار مختار احمد خان بنام آزاد حکومت وغیرہ کے عنوان سے رِٹ پٹیشن جسٹس سردار محمد اعجاز خان نے چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھجوا دی ہے۔ اس اہم مقدمے کی پیروی ایڈووکیٹ ثاقب عباسی کر رہے ہیں۔
ناظرین، میں اس وقت ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے باہر موجود ہوں۔ تعلیمی پیکج 2026 کو ری وزٹ کرنے کے کابینہ کے فیصلے کے خلاف دائر رِٹ پٹیشن کی آج جج ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد اعجاز خان کے روبرو تاریخِ سماعت مقرر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈہاک ایکٹ کیس: سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشنز سماعتوں کی تاریخیں مقرر
عدالتی کارروائی اور چیف جسٹس کو منتقلی:
سماعت کے دوران عدالت نے کیس چیف جسٹس ہائی کورٹ کو سماعت کے لیے بھیج دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ اس کیس کو دیگر کیسز کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں یا الگ سے سننے کا حکم دیتے ہیں۔
اس مقدمے میں درخواست گزار کی جانب سے پیروی کے فرائض ثاقب عباسی ایڈووکیٹ سرانجام دے رہے ہیں۔
سابقہ حکمِ امتنائی اور حکومت کی یقین دہانی:
اس ضمن میں قبل ازیں بھی تعلیمی پیکج کو ری وزٹ کرنے کے خلاف کیس دائر کیا گیا تھا اور اس پر عدالت کی جانب سے حکمِ امتنائی بھی جاری کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ :کرنٹ سے ہاتھ گنوانے والی بچی کے تمام علاج کا خرچ پیسکو کو اٹھانے کا حکم
تاہم، بعد میں ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے اس واضح یقین دہانی کے بعد کہ حکومت ری وزٹ کے عمل میں تعلیمی پیکج کے ذریعے اپ گریڈ ہونے والے اور نئے قائم ہونے والے تعلیمی اداروں کو متاثر نہیں کرے گی، وہ حکمِ امتنائی واپس لے لیا گیا تھا۔




