برطانیہ سے 90ہزار پناہ گزینوں کی بے دخلی کا منصوبہ کیا ہے؟

برطانیہ کی سیاسی جماعت ریفارم یو کے نے اعلان کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ فوری طور پر 90 ہزار پناہ گزینوں کو ملک بدر کرے گی اور پانچ سال کے لیے پناہ کی نئی درخواستوں پر پابندی عائد کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت خواتین اور بچوں کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق جماعت کے رہنما نائجل فاریج نے پیر کو اپنی جماعت کی اب تک کی سخت ترین امیگریشن پالیسیوں کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری ،پاکستانی ڈاکٹر نے برطانیہ میں نئی تاریخ رقم کردی

 ان تجاویز کو مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے برطانیہ کی جنگ متاثرین کو پناہ دینے کی روایت سے انحراف قرار دیا ہے۔

منصوبے کے مطابق نئے پناہ کے تمام دعوے خودکار طور پر مسترد کر دیے جائیں گے، جبکہ ناکام درخواست گزاروں کو ان کے آبائی ممالک یا کسی محفوظ تیسرے ملک بھیج دیا جائے گا۔

 ایسے ممالک جو اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کریں گے، ان پر تجارتی محصولات، ویزا پابندیاں یا فضائی حدود کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

جب نائجل فاریج سے پوچھا گیا کہ کیا بچوں کو اس پالیسی سے مستثنیٰ رکھا جائے گا، تو انہوں نے کہا کہ اگر فلسطینی یا افغان خواتین اور بچوں کو آنے کی اجازت دی جائے تو بظاہر یہ ہمدردی پر مبنی اقدام لگ سکتا ہے، لیکن اس سے بعد میں خاندانی ملاپ کی راہ کھل جائے گی اور پھر شوہر اور دیگر افراد بھی آنے لگیں گے۔

گزشتہ ماہ وزیر داخلہ شابانہ محمود نے کہا تھا کہ برطانیہ کے دوبارہ شروع کیے گئے آبادکاری پروگرام کے تحت آنے والوں میں تقریباً ایک چوتھائی افغان خواتین اور لڑکیاں ہوں گی جو طالبان حکومت سے فرار ہوئی ہیں، یا فلسطینی ہوں گے جو غزہ سے نکلے ہیں تاہم وزارت داخلہ کے ایک ذریعے نے فاریج کے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کے تحت آنے والوں کو خاندانی ملاپ کے حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔

فاریج نے کہا کہ ان کی حکومت 2024 کے بعد پناہ حاصل کرنے والے تمام افراد کے کیسز کا بھی جائزہ لے گی۔ جن لوگوں کا تعلق ان ممالک سے ہوگا جنہیں ریفارم یو کے کی حکومت محفوظ قرار دے گی، ان کا برطانیہ میں رہنے کا حق ختم کیا جا سکتا ہے۔

جماعت کی 17 صفحات پر مشتمل پالیسی دستاویز میں ریاستی اداروں میں امیگریشن نگرانی کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔

 اس کے تحت خوراک، رہائش اور لائسنسنگ کے معائنوں میں بھی امیگریشن چیکس شامل کیے جائیں گے۔ ممکنہ طور پر ملک بدر کیے جانے والے افراد کی نشاندہی پانی اور بجلی کے استعمال کے ریکارڈ، فضائی تصاویر اور پڑوسیوں کی شکایات کی بنیاد پر کی جائے گی۔

پارٹی کے متوقع وزیر داخلہ ضیا یوسف نے کہا کہ ریفارم یو کے ’دس لاکھ سے زائد افراد‘ کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ جماعت کسی کو قتل یا تشدد کا سامنا کرنے کے لیے واپس بھیجنے کی حامی نہیں اور مشکل کیسز کے لیے تیسرے ممالک کا آپشن موجود ہوگا۔

ادھرریفیوجی کونسل نے خبردار کیا کہ برطانیہ کا پناہ کا نظام بند کرنے سے افراتفری پیدا ہوگی اور ایسے افراد جو بہرحال برطانیہ پہنچیں گے، منظم نظام کا حصہ بننے کے بجائے زیرِ زمین چلے جائیں گے۔

ادارے کے چیف پالیسی تجزیہ کار جون فیٹنبی نے کہا کہ یہ تجاویز برطانیہ کی اس قابلِ فخر روایت کو ختم کر دیں گی جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد جنگ اور ظلم سے متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

لیبر پارٹی کی چیئر بریجٹ فلپسن نے کہا کہ نائجل فاریج اپنے مالی معاملات سے متعلق سوالات اور سیاسی دباؤ کے باعث پہلے سے زیادہ سخت پالیسیاں پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق لیبر پارٹی سنجیدہ اقدامات کے ذریعے امیگریشن کو کنٹرول کر سکتی ہے، پناہ کے پورے نظام کو ختم کیے بغیر۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا پناہ گزینوں کے لیے نیا اور انتہائی سخت قانون : اہم ترین تبدیلیاں

رائے عامہ کے ماہر لیوک ٹرائل نے اس پالیسی کو توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں پناہ کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز خود ریفارم یو کے کے بیشتر ووٹرز کی خواہشات کے بھی خلاف ہے۔

 ان کے مطابق صرف 14 فیصد ریفارم ووٹرز یہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ جنگ اور ظلم سے فرار ہونے والے افراد کو مکمل طور پر قبول کرنا بند کر دے۔