ایران امریکا کشیدگی خاتمہ، روس میدان میں آگیا، پیوٹن کا اہم اعلان

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران روس نے ایران کو سفارتی معاونت کی پیشکش کردی ہے۔ روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے تنازع کے سیاسی حل کیلئے کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یہ پیشرفت ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد سامنے آئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال اور باہمی تعاون سے متعلق امور پر گفتگو کی۔

روس کا مؤقف

روسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کے معاہدے کے تحت تعاون جاری رکھا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کے خلاف جاری تنازع میں 81 امریکی طیاروں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف

پیوٹن نے ایرانی قوم کی مزاحمت کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل صورتحال میں ایرانی عوام کی ثابت قدمی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

روسی صدر نے اس موقع پر سفارتی راستے سے مسئلے کے حل کی حمایت بھی کی۔ ان کے مطابق روس تنازع کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنےکیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

سفارتی حل کی پیشکش

پیوٹن نے ثالث ممالک کی جانب سے جاری کوششوں کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک مسئلے کے حل کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔

روسی صدر کے مطابق ماسکو بھی کشیدگی کم کرنے کیلیئ سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے۔ روس اس سلسلے میں ضروری معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

پزشکیان کا مؤقف

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں ملک کو درپیش صورتحال پر اظہار خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو مختلف محاذوں سے مکمل جنگ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں قومی حقوق کے تحفظ کیلئے مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔

پزشکیان نے کہا کہ ایران مذاکرات کی کوششوں کے ساتھ اپنی مزاحمت بھی جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالآخر دشمن کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اندرونی طاقت پر زور

ایرانی صدر نے ملک کی داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عوام اور اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بات کی۔

پزشکیان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کو اپنی داخلی صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

کشیدگی میں کمی کی کوشش

روسی صدر کی جانب سے سفارتی معاونت کی پیشکش خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم پیشرفت قرار دی جارہی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مارکو روبیوکا ایرانی وفد کو فوری طور پر امریکا چھوڑنے کا حکم؛ پس پردہ کیا ہوا؟

ماسکو نے واضح کیا ہے کہ وہ براہ راست محاذ آرائی کے بجائے سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم تنازع کے آئندہ رخ کا انحصار ایران اور امریکا کے اقدامات پر ہوگا۔