اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے موقع پر نیویارک میں موجود ایرانی وفد کے خلاف امریکہ نے ایک انتہائی سخت اور اچانک فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے جاری ہونے والے اس ارجنٹ حکم نے دنیا بھر کے سیاسی حلقوں کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے کہ آخر پردے کے پیچھے ایسا کیا ہوا کہ اتنا بڑا قدم اٹھانا پڑا۔
قطری ثالثی کی تمام کوششیں دم توڑ گئیں:
ذرائع کے مطابق دونوں حریف ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تھامنے اور مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قطری ثالثی کی تمام تر کوششیں آخری لمحے تک جاری تھیں، جو بالآخر کسی بھی قسم کی پیشرفت میں ناکام ثابت ہوئیں۔ اس ناکامی کے فوری بعد سامنے آنے والا یہ حکم صورتحال کو انتہائی خطرناک موڑ پر لے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران کو سخت نشانہ بنانے کی دھمکی،10ہزار اضافی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ
ایرانی وزیر خارجہ بھی اس ناگہانی حکم کی زد میں:
سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس اعلیٰ سطحی ایرانی وفد میں خود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے، جنہیں اس حکم کے بعد فوری طور پر امریکا چھوڑنے کی سخت ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ اس ڈرامائی پیش رفت کے بعد اب عالمی سطح پر آئندہ کے لائحہ عمل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔




