آزاد جموں و کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کی اکیسویں برسی کے موقع پر قدرتی آفات سے آگاہی کا دن منایا گیا۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (SDMA) کے زیرِ اہتمام چوک شہیداں سے مظفرآباد کےCMHتک ایک بڑی آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔
واک میں وزیرِ حکومت محترمہ نورین عارف، میئر میونسپل کارپوریشن اور فادر آف سٹی پیر سید سکندر کے ساتھ تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات، ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، بوائے اینڈ گرلز سکاؤٹس، اور سول ڈیفنس کے رضاکاروں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ اس واک میں المصطفی ویلفیئر سوسائٹی کے تحت کام کرنے والے معذور (خصوصی) افراد کی بھی ایک بڑی تعداد شریک رہی جو 2003 سے مظفرآباد میں خصوصی افراد کی بحالی کا کام بلا معاوضہ انجام دے رہی ہے۔
سول ڈیفنس اور مقامی نمائندگان کے تحفظات
واک کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہری دفاع کے چیف وارڈن خواجہ نصیب محمود اور تنظیمِ شہر کے نمائندے شیخ ہارون نے خطے میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 اکتوبر جیسے سانحے کو اتنے سال گزر جانے کے باوجود ہمارے اداروں کے پاس کوئی مؤثر تیاری موجود نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مدینہ مارکیٹ جیسے تجارتی مراکز میں تجاوزات اور غیر معیاری تعمیرات کی وجہ سے حادثات کی صورت میں ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کا پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ رضاکاروں اور سول ڈیفنس کے پاس وسائل اور باقاعدہ تربیت کی شدید کمی ہے، اور تمام تر کام محض کاغذی کارروائیوں یا اپنی مدد آپ کے تحت چل رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اداروں کو فعال کرے اور رضاکاروں کو جدید ساز و سامان اور تربیت فراہم کرے۔
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور کلائمیٹ چینج کے خطرات
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی آزاد جموں و کشمیر برانچ کی سیکرٹری گلناز فاطمہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 2005 کے زلزلے سے بحیثیت قوم زیادہ سبق نہیں سیکھا۔ ادارے اپنا کام کر رہے ہیں لیکن صرف ان کی خدمات کافی نہیں ہیں، بلکہ ہر گھر سے ہمارے پاس ایک فرسٹ ایڈ ٹرینر اور رضاکار ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: نئے بینک برانچز کے قیام کے لیے پارکنگ اور دیگر سہولیات کی شرط لازمی قرار
انہوں نے خبردار کیا کہ آج ہم کلائمیٹ چینج جیسی بڑی مصیبت سے لڑ رہے ہیں جہاں ہمارے گلیشیئرز بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں اور جھیلیں برسٹ ہو رہی ہیں جو کسی بھی وقت تباہی مچا سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محض سال میں ایک دن اکٹھے ہونے کے بجائے اسکولوں کی سطح پر 20 سال سے کم عمر نوجوان نسل کو ریگولر ڈرلز اور آگاہی سیشنز کے ذریعے حفاظتی تدابیر سے روشناس کرانا ہوگا۔
نورین عارف کے جذبات اور 2005 کے امدادی مناظر
صوبائی وزیر نورین عارف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے میں پورا شہر زمین بوس ہو گیا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ شہید ہو گئے تھے۔ اس وقت لوگوں کی بے بسی کا یہ عالم تھا کہ کئی افراد تین تین دن تک عمارتوں کے ملبے تلے زندہ رہے تھے، لیکن ہر مشکل وقت میں اللہ تعالی فرشتوں کے ذریعے مدد فرماتا ہے۔
انہوں نے پاک فوج، پاکستانی کمیونٹی اور عالمی امدادی ٹیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کے دوسرے دن ہی ترکی کی ٹیمیں یہاں پہنچ گئی تھیں اور انہوں نے کئی لوگوں کو بلڈنگوں کے نیچے سے زندہ نکالا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا اپنا گھر شوکت لائن میں ہے جہاں آج بھی آرمی کا کیمپ ہے اور اس سانحے میں ان کے خاندان کے بہت سے افراد سمیت فوج کے بھی بہت سے لوگ شہید ہوئے، لیکن اس کے باوجود فوجی بھائیوں نے اپنے پیاروں کو چھوڑ کر عام لوگوں کی مدد کی۔ انہوں نے اس مشکل وقت میں امداد کے لیے آنے والے دنیا بھر کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔




