حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان جاری مذاکرات میں فریقین کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے اور مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک بدستور برقرار ہے۔ اپوزیشن کے رکن مذاکراتی وفد علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بعض اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات میں بعض معاملات بظاہر چھوٹے تھے، لیکن فریقین ان پر اتفاق کرتے ہوئے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ بھی حل نہیں ہوسکا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش تھی کہ مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچایا جائے، تاہم ڈیڈلاک برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض اہم معاملات ابھی تک حل طلب ہیں، جس کے باعث مذاکرات میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔
انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج تک رسائی کا معاملہ بھی مذاکرات میں رکاوٹ کا باعث بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔
راجہ ناصر عباس کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر نیشنل ایکشن پلان سے متعلق بھی تحفظات موجود تھے۔ ان معاملات پر مذاکرات کے دوران بات چیت ہوئی، تاہم فریقین کے درمیان مکمل اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی اور دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان سمیت دیگر امور زیرِ بحث آئے۔ اپوزیشن کی جانب سے ان معاملات پر اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کیے گئے، جبکہ حکومت نے بھی اپنا مؤقف مذاکراتی میز پر رکھا۔
اگرچہ مذاکرات کا حالیہ دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوا، تاہم اپوزیشن اراکین کے مطابق مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا۔ اپوزیشن اراکین نے بتایا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور کل ہوگا، جس میں زیرِ بحث معاملات پر مزید مشاورت کی جائے گی۔
مذاکرات کے اگلے دور میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، ان کے ذاتی معالج تک رسائی اور نیشنل ایکشن پلان سے متعلق تحفظات سمیت دیگر معاملات پر پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بڑا ڈیڈلاک برقرار
فریقین کے درمیان موجود ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے آئندہ مذاکرات اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کل ہونے والے مذاکرات میں حکومت اور پی ٹی آئی اختلافات دور کرکے کسی قابلِ قبول حل تک پہنچ پاتے ہیں یا مذاکراتی عمل مزید تعطل کا شکار رہتا ہے۔




