حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت نہ ہوسکی اور مذاکرات ایک بار پھر ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے ہیں۔ سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران پی ٹی آئی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان بھی اختلافات سامنے آئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت کے اندر بھی بعض معاملات پر اختلاف رائے پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
غریدہ فاروقی کے مطابق مذاکرات میں اصل اختلاف خیبر پختونخوا حکومت کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے معاملے پر پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اور عملی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے مؤقف اور وفاق کی توقعات کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات،عمران خان سے ملاقات بارے خبریں بے بنیاد نکلیں
صحافی کے مطابق یہی معاملہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے اور فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات اور وفاق کے ساتھ تعاون کی نوعیت پر واضح اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔
خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اہم موضوع
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پہلے بھی ایک اہم موضوع رہی ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز، امن و امان کی صورتحال اور وفاق و صوبے کے درمیان سیکیورٹی معاملات میں تعاون کے حوالے سے مختلف مواقع پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔
غریدہ فاروقی کے مطابق موجودہ مذاکرات میں بھی یہی معاملہ مرکزی اہمیت اختیار کرگیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔
لانگ مارچ اور عمران خان تک رسائی کا معاملہ
دستیاب رپورٹنگ کے مطابق حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ختم کرنے اور مستقبل میں اسلام آباد کی جانب مارچ نہ کرنے کی یقین دہانی کا مطالبہ بھی مذاکرات میں سامنے آیا تھا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی کا مطالبہ بھی مذاکراتی عمل کا حصہ رہا ہے۔
یوں مذاکرات میں ایک طرف سیاسی مطالبات اور دوسری جانب خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور وفاق کے ساتھ تعاون کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی
غریدہ فاروقی نے خیبر پختونخوا حکومت کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور وفاق کے ساتھ تعاون کے معاملے کو موجودہ مذاکراتی تعطل کی بڑی وجوہات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان اس معاملے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث تاحال کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آسکا۔
تاہم ان دعوؤں کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
موجودہ صورتحال میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی اختلافات کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے فریقین کے درمیان مزید رابطوں اور مشاورت کی ضرورت ہوگی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
آئندہ مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال، وفاق کے ساتھ صوبائی حکومت کے تعاون، لانگ مارچ اور عمران خان تک رسائی سمیت دیگر معاملات پر فریقین کے مؤقف سے صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔




