ڈڈیال(کشمیر ڈیجیٹل) ڈڈیال پولیس کا خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے شراب تیار کرنیوالی غیر قانونی فیکٹری پر چھاپہ ، بھاری مقدار میں شراب قبضے میں لے لی۔
پولیس نے چھاپے کے دوران 2100 لیٹر شراب، مختلف برانڈز کی 1400 بوتلیں اور شراب کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان اور فارمولے برآمد کر لیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خواجہ مہران کے خلاف سابق ساتھیوں کے سنسنی خیز الزامات، پولیس چھاپے میں اسلحہ اور مواد برآمد
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران فیکٹری کو سیل کر دیا گیا جبکہ غیر قانونی شراب کی تیاری اور کاروبار میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس نے برآمد ہونے والی شراب، بوتلوں، تیاری کے سامان اور دیگر متعلقہ اشیا کو قبضے میں لے لیا۔ گرفتار افراد سے غیر قانونی شراب کی تیاری، سپلائی اور کاروبار سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔
خواجہ مہران اور خواجہ ارشد کے نام بھی تفتیش میں سامنے آگئے
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش گرفتار افراد نے خواجہ مہران اور ان کے والد خواجہ ارشد کی پشت پناہی کا انکشاف کیا ہے۔ پولیس نے دونوں کے کردار اور مبینہ معاونت سے متعلق بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور گرفتار افراد کے بیانات کی روشنی میں مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
غیر قانونی کاروبار سے حاصل آمدن کی تحقیقات
پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ غیر قانونی شراب کے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدن کہاں استعمال ہوتی رہی۔ اس سلسلے میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ رقم کسی احتجاجی سرگرمی کے لیے استعمال ہوتی رہی یا ذاتی مفاد کے لیے۔
پولیس کے مطابق اس حوالے سے مالی معاملات اور دیگر متعلقہ شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ رقم کے استعمال اور ممکنہ معاونین کا تعین کیا جا سکے۔
مزید قانونی کارروائی کا امکان
پولیس نے فیکٹری سیل کرنے کے بعد برآمد شدہ سامان کو قبضے میں لے لیا ہے جبکہ گرفتار افراد سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

پولیس کے مطابق غیر قانونی شراب کی تیاری، ذخیرہ، سپلائی اور اس کاروبار سے وابستہ دیگر معاملات کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، جبکہ شواہد کی روشنی میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔




