صدر کا سرکاری یونیورسٹیز میں وائس چانسلر لگانے کا اختیار ختم

صدر آزاد کشمیر سے سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر (V.C) اور رجسٹرار لگانے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت اب سرکاری یونیورسٹیز کے وائس چانسلر اور رجسٹرار حکومت لگائے گی۔

حکومت کے آخری دنوں میں اسمبلی سے منظور کرائے جانے والے اس نئے قانون کے تحت صدر ریاست کے پاس رولز آف بزنس کے تحت صرف دستخط کا اختیار ہو گا۔ وائس چانسلر کی خالی آسامی پر تعیناتی کی فائل وزارت تعلیم کالجز سے تحریک ہوگی، وزیراعظم سے پینل کی منظوری لی جائے گی اور صدر صرف دستخط کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر سردارنجیب نقی سے ڈاکٹر مشتاق خان کی اہم ملاقات، راولاکوٹ ایشو حل کرنے کی یقین دھانی

صدر اور وزیراعظم کی دوستی کا کڑا امتحان:

سیاسی حلقوں میں اس قانون کی منظوری کو ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ صدر ریاست ڈاکٹر نجیب نقی خان، وزیراعظم افتخار گیلانی اور اسپیکر چوہدری طارق فاروق قریبی دوست مانے جاتے ہیں۔ اس قانونی تبدیلی کے بعد اب صدر اور وزیراعظم کی گہری دوستی کا پہلا سیاسی امتحان شروع ہو گیا ہے کہ آیا اس معاملے پر کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جاتا ہے یا اختیارات کی یہ تبدیلی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔