کاروبار اور گھر کے لیے 50 لاکھ روپے تک قرض؟ ایس ای سی پی کی اہم تجاویز پیش

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے مائیکروفنانس، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے مالی سہولت سے متعلق قواعد میں تبدیلیوں کی اہم تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ان مجوزہ تبدیلیوں کا بنیادی مقصد مالی سہولیات کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور چھوٹے کاروباروں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو قرض تک رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

اس تجویز کے تحت مائیکروفنانس اور ہاؤسنگ کے شعبے میں قرض کی حد بڑھانے کی بات کی گئی ہے، جبکہ مائیکرو انٹرپرائزز اور کاروباری اداروں کے لیے مالی حدود میں بھی تبدیلیاں زیر غور لائی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مائیکروفنانس قرض کے لیے آمدن کی حد میں اضافے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ نسبتاً زیادہ آمدن رکھنے والے افراد بھی متعلقہ مالی سہولت کے دائرے میں آسکے۔

کاروبار اور سالانہ ٹرن اوور سے متعلق تجاویز:

چھوٹے کاروباروں کے لیے سالانہ ٹرن اوور کی حد میں اضافے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ کاروباری اداروں کو متعلقہ مالی سہولیات تک رسائی دینا ہے۔ اسی طرح درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے سالانہ ٹرن اوور کی حد میں بھی اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد نوجوان کاروباری شخصیت نے انگلش فٹبال کلب خرید لیا

تاہم واضح رہے کہ قرض کی حتمی حد اور دیگر شرائط کا اطلاق متعلقہ قواعد اور باقاعدہ منظوری کے بعد ہی ہوگا۔ اس لیے ان مجوزہ تبدیلیوں کو فوری طور پر ہر فرد کے لیے 50 لاکھ روپے کے قرض کی حتمی منظوری سمجھنا ہرگز درست نہیں ہوگا۔

ایس ای سی پی کے سابقہ اقدامات اور مقاصد:

ایس ای سی پی نے حالیہ برسوں میں نان بینکنگ مائیکروفنانس سیکٹر کے قرض کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ یاد رہے کہ نومبر 2025 میں جاری کردہ فریم ورک کے دوران مائیکرو انٹرپرائز اور ہاؤسنگ فنانس کی قرض حد کو 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دیا گیا تھا۔

ایس ای سی پی کے مطابق مائیکروفنانس کے قواعد میں ان تمام تبدیلیوں کا بنیادی مقصد ملک میں مالی شمولیت کو بہتر بنانا اور چھوٹے کاروباروں کے لیے زیادہ مؤثر مالی رسائی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔