مظفرآباد میں چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان اور آئی جی پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں امن و امان کے قیام اور استحکامِ کشمیر کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا، زخمیوں اور ان کے لواحقین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، اور یہ عہد کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی حقوق کے نام پر ہر سال کچھ شرپسند جتھے اپنے ذاتی مفادات کے تحت ریاست کے امن کو خراب کرنے، ریاست کو یرغمال بنانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور امن کو موقع دیا، لیکن ان عناصر کی ہٹ دھرمی کے باوجود الحمدللہ آج کی تاریخ تک کوئی انٹری اور ایگزٹ پوائنٹ بند نہیں ہو سکا، تمام مارکیٹیں اور اسکول کھلے ہیں، اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ شرپسندوں کے الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے تمام مذموم منصوبے اور سازشیں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں، آزاد کشمیر میں عوامی انتخابات کے بعد آئینی حکومت قائم ہو چکی ہے اور وزیراعظم، کابینہ اور صدر حلف اٹھا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی نے سیاحت، تعلیم وترقی ،معیشت تباہ کردی، آئی جی لیاقت علی ملک
پولیس اہلکاروں کی قربانیاں اور شرپسند عناصر کا مکروہ چہرہ
آئی جی پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ گزشتہ سال بھی ان شرپسندوں نے ریاست کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تھی جس دوران پولیس پر حملے کیے گئے۔ فرض کی راہ میں جان دینے والے شہدا میں کانسٹیبل طاہر رفیق، کانسٹیبل محمد جمیل اور ہیڈ کانسٹیبل محمد رشید شامل ہیں، جن کی شہادت کے بعد ان کی لاشوں کی بھی بے حرمتی کی گئی جس کے ویڈیو ثبوت موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 409 پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جنہیں گولیوں اور ڈنڈوں سے زخمی کیا گیا۔
آئی جی پولیس نے مزید بتایا کہ یہ ریاست کا یکطرفہ بیانیہ نہیں ہے بلکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے فیس بک پیجز اور ان کے سوشل میڈیا ہینڈلرز آج بھی اپنی ویڈیوز اور انٹرویوز میں پولیس پر حملوں اور سرکاری گاڑیوں کو جلانے کے واقعات کو فخریہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان عناصر کا اصل چہرہ ان کے فیس بک پیجز پر موجود ویڈیوز سے عیاں ہوتا ہے جہاں یہ ریاست کے خلاف مسلح جتھوں کی حوصلہ افزائی، اشتعال انگیزی اور تعلیمی نظام کو مفلوج کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔




