خواجہ آصف

پاکستان تحریک انصاف دہشت گردوں کے ساتھ ہے ، وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف پر دہشتگردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو محض سیاسی احتجاج، لانگ مارچ یا وفاق کیساتھ محاذ آرائی کے تناظر میں دیکھنا اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کا سب سے بڑا جرم دہشت گردی کیخلاف جنگ سے لاتعلقی ہے جبکہ ان کے بقول دہشت گردی کیلئے مالی وسائل بھی بھتے کی صورت میں فراہم کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں شہداء کے جنازوں میں پی ٹی آئی قیادت کی شرکت کہاں ہے؟ خواجہ آصف

وزیر دفاع نے سوال اُٹھایا کہ ایک صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوششیں آخر کب تک جاری رہیں گی؟ انکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت میں موجود جماعت وفاقی اداروں کیساتھ مسلسل محاذ آرائی کب تک جاری رکھے گی اور اس طرز عمل کے ملک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس پر بھی غور ضروری ہے۔

خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا صوبائی حکومت نے امن و امان کے قیام اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟

انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ ان کے مطابق صوبے میں حکومت بننے کے بعد قیادت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے ذاتی مفادات پر رہی۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے جنازوں میں صوبائی حکومت کی عدم شرکت، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا فقدان، دہشت گردی کیلئے سازگار بیانیے کی مبینہ ترویج، پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار میں مطلوبہ اضافہ نہ کرنا اور ضم شدہ اضلاع میں مؤثر حکمرانی پر خاطر خواہ توجہ نہ دینا بھی اہم معاملات ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت کو کوئی مسئلہ نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

خواجہ آصف کے مطابق ملک میں امن و امان کا قیام، انسداد دہشتگردی، مؤثر حکمرانی، وفاقی استحکام ، آئینی و قانونی تقاضوں کی تکمیل قومی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کی ترجیح کسی ایک شخصیت یا گروہی مفادات کا حصول ہے یا ملک کے وسیع تر قومی مفاد سے متعلق ایجنڈے کی تکمیل۔