مظفرآباد (کشمیرڈیجیٹل)چالیس سالوں سے متاثرین انصاف کیلئے دربدررہے لینڈ مافیا مشہور ٹرانسپوٹرمحمدمظفرخان ،اعجازلطیف وغیرہ کے خلاف1994میںدعوی دائر کیا ہماری اراضی واپس کر یں۔
متاثرین کی 9 کنال قیمتی اراضی پر مبینہ قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ عدالت میں زیرِ سماعت درستگی اپیل582 کا فیصلہ متاثرین کے حق میں سنادیا۔
نٹرول کے رہائشی محمدصدیق،ظہیراحمد افضل کی اراضی9کنال پٹورای وقت شبیر اعوان نے جعلی فرضی انتقال نمبر5 محمد مظفر وغیرہ نام 1999میں درج تصدیق کروائی گئی۔
ایک اہم مقدمہ محمد مظفر بنام محمد افضل موضع نٹڑول خسرہ نمبر42عدالتی معاملے میں سینئرجج ڈسٹرکٹ جج ، عدالتِ عظمیٰ اور عدالتِ عالیہ کی جانب سے قانون، ریکارڈ اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی سماعت اور فیصلے کو عوامی حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے مٹ گئے، وزیراعظم سے سینکڑوں شہریوں کی ملاقات
مجسٹریٹ کی عدالت نے مخالف فریق کی اپیل خارج کر دی ۔9کنال اراضی پر قابض افراد کو عدالت نےبڑا جھٹکا دیدیا،اس سے قبل کلکٹر کی جانب سے بھی فیصلہ صادر کیا گیا تھا، جس کے خلاف مخالف فریق نے ممبر جوڈیشل بورڈ آف ریونیو اور بعد ازاں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے فورمز پر اپیلیں دائر کیں۔
رپورٹ کے مطابق مخالف فریق کی اپیلیں وہاں بھی مسترد کردیں،بعد ازاں معاملہ کمشنر مظفرآباد ڈویژن کی عدالت میں درستگی کی اپیل کی صورت میں زیرِ سماعت آیا۔
کمشنر مظفرآباد نے فریقین کے مؤقف، دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ متاثرین کے حق میں صادر کردیا جبکہ مخالف فریق کی اپیل خارج کر دی گئی۔
ریکارڈ کے مطابق محمد مظفر نے 57کنال اراضی زائد حصہ داری فروخت ، معاوضہ خود وصول کیا ۔جبکہ 15کنال حصہ داری بنتی ہے کمشنر وقت نے کمیشن کی عدالت العالیہ میں ایک پورٹ جمع کروائی جس میں محمد مظفر وغیرہ نے کا کوئی حصہ حقیت بقایا نہ ہے۔ پٹشنر کی اراضی متدعویہ کا دعودار نہ ہو سکتا ہے۔
رٹ پٹیشن بدوں استحقاق زائد حصہ ملکیت دائر ہونے کی بناء پر قابل اخراج ہےاور کلکٹر ضلع تمام ریکارڈ کا معائینے جس کے خلاف مخالف فریق نے ممبر جوڈیشل بورڈ آف ریونیو اور بعد ازاں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے فورمز پر اپیلیں دائر کیں۔
تاہم دستیاب معلومات کے مطابق مخالف فریق کی اپیلیں وہاں بھی مسترد ہوئیںاورقانون و ریکارڈ کی بنیاد پر معاملات کو دیکھنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے عمل کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ طویل قانونی جدوجہد کے بعد مختلف ریونیو فورمز سے ان کے حق میں فیصلے آنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ قانون اور سرکاری ریکارڈ کی بالادستی ہی حقیقی انصاف کی بنیاد ہے۔
انہوں نے اعلیٰ عدلیہ اور متعلقہ انتظامی افسران سے اپیل کی ہے کہ متاثرین کی اراضی پر مبینہ قبضے اور زیرِ تعمیر غیر قانونی تعمیرات کے معاملے کا بھی قانون کے مطابق نوٹس لیا جائے تاکہ عدالتی و ریونیو فیصلوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:27 ستمبر لانگ مارچ : پولیس کا مشاورتی اجلاس پر دھاوا، خواجہ فاروق ساتھیوں سمیت گرفتار
متاثرین نے چیف جسٹس عدالتِ عظمیٰ، معزز جج عدالتِ عالیہ، کمشنر مظفرآباد ڈویژن اور کلکٹر ضلع کو انصاف کی فراہمی کے لیے ان کے کردار پر خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
س موقع پر چیف جسٹس عدالتِ عظمیٰ آزاد جموں و کشمیر کی سربراہی میں اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے قانون اور ریکارڈ کی بنیاد پر معاملے کو دیکھنے کے عمل کو انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح عدالتِ عالیہ کے معزز جج صاحب کی جانب سے معاملے کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے کو بھی قابلِ احترام عدالتی کردار کے طور پر سراہا گیا ہے۔
معاملے عدالت کی جانب سے سرکاری ریکارڈ، حقائق اور متعلقہ دستاویزات کو سامنے رکھتے ہوئے کارروائی اور ریکارڈ کی تکمیل بھی قابلِ تحسین قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ ایسے معاملات میں درست سرکاری ریکارڈ اور شفاف انتظامی کارروائی عدالتی انصاف کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
متاثرین کے کہنا ہے کہ چیف جسٹس عدالتِ عظمیٰ، چیف جسٹس عدالت العالیہ معزز جج، ممبر جوڈیشل بورڈ آف ریونیو اور بعد ازاں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے فورمز اور کلکٹرصاحبان نے اپنے اپنے دائر اختیار میں قانون، ریکارڈ اور انصاف کے تقاضوں کو مقدم رکھتے ہوئے جو کردار ادا کیا،۔۔
عدالتی و انتظامی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ حقائق و ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلوں کا عمل جاری ہے۔
عوامی حلقوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں عدالتیں اور انتظامیہ قانون و انصاف کے اصولوں کے مطابق معاملات کو آگے بڑھا رہی ہیں۔




