ٹنڈو الہ یار (کشمیر ڈیجیٹل): ٹنڈو الہ یار کے ایک نجی شادی ہال میں ولیمے کی تقریب کے دوران مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے سے 400 سے زائد افراد کی حالت غیر ہوگئی۔
متاثرین میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جبکہ انتظامیہ نے شادی ہال سیل کرکے تحقیقات شروع کردیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے مٹ گئے، وزیراعظم سے سینکڑوں شہریوں کی ملاقات
تفصیلات کے مطابق ٹنڈو الہ یار میں منعقدہ ولیمے کی تقریب میں شریک افراد مبینہ طور پر کھانا کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوگئے۔
ٹنڈوالہ یار میں نجی شادی ہال میں ولیمے کی تقریب کے دوران مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے سے 400 سے زائد افراد کی حالت غیر ہوگئی، متاثرین میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔بڑی تعداد میں مریض سول اسپتال پہنچ گئے۔اسپتال میں جگہ کم پڑنے پر متاثرین کو پارک میں بھی طبی امداد… pic.twitter.com/PzHjULRNNl
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) September 21, 2026
متاثرین کی بڑی تعداد کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں مریضوں کی غیر معمولی تعداد کے باعث طبی عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسپتال میں جگہ کم پڑنے کے باعث متعدد متاثرین کو اسپتال کے لان اور پارک میں ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ مریضوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کردی گئی،
جبکہ عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نجی ڈاکٹروں اور دیگر افراد کی خدمات بھی حاصل کرلی گئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایمز ہسپتال کا دورہ، مریضوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،وزیراعظم گیلانی
ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کے مطابق رات کے وقت 400 سے زائد مریضوں کو اسپتال لایا گیا، جو فوڈ پوائزننگ سے متاثر ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد متعلقہ انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے نجی شادی ہال کو سیل کردیا اور واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردیں۔




