وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئےاپنے دورہ امریکا کا وفد مزید محدود کردیا ہے۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی امریکا جائیں گے۔
وفد میں اہم حکومتی شخصیات شامل
ابتدائی طور پر وزیراعظم کے ہمراہ متعدد وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام کی امریکا روانگی متوقع تھی تاہم اب وفد کو اہم اور ضروری شخصیات تک محدود کردیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم کی معاونت کیلئے متعلقہ شعبوں کے ذمہ دار حکام ہی ان کے ہمراہ ہوں گے۔
سرکاری اخراجات کم رکھنے کی پالیسی
وزیراعظم کی جانب سے وفد محدود رکھنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت سرکاری دوروں کے دوران اخراجات میں کمی اور وفود کا حجم محدود رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا اور سرکاری دوروں کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اپنے خطاب میں وہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے جبکہ اہم بین الاقوامی معاملات پر پاکستان کی ترجیحات بھی اجاگر کریں گے۔
عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں متوقع
نیویارک میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی مختلف ممالک کے سربراہان اور عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال، عالمی امن اور معاشی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے حکام سے بھی ملاقاتیں
وزیراعظم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت عالمی ادارے کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم پاکستان کے مؤقف، ترجیحات اور عالمی و علاقائی امور سے متعلق نقطۂ نظر سے آگاہ کریں گے۔
فلسطین اور مسئلہ کشمیر اہم موضوعات
جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کے خطاب میں فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال بھی اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔ پاکستان عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق، مسئلہ کشمیر کے حل اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی وزیراعظم کے دورۂ امریکا کے دوران اہم سفارتی موضوع بن سکتی ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے فروغ اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی حمایت کرتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور معاشی مسائل
وزیراعظم اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مشکلات پر بھی بات کریں گے۔ پاکستان عالمی برادری سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے ترقی پذیر ممالک کی معاونت اور عالمی تعاون پر زور دیتا رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف تعاون پر زور
عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی پاکستان کے اہم سفارتی نکات میں شامل ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو اجاگر کرسکتے ہیں۔
دورہ اہم سفارتی سرگرمیوں تک محدود
وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ امریکا بنیادی طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی اور عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتوں پر مرکوز ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہونہار اور مستحق طلبہ کو جدید تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
محدود وفد کے باعث دورے کی سرگرمیوں کو اہم سفارتی اور سرکاری معاملات تک رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔




