افتخار گیلانی

آل پارٹیز الائنس لیپہ ویلی کی وزیراعظم کو دورہ کی دعوت، چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش

آل پارٹیز الائنس نے لائن آف کنٹرول کے نہتے عوام کو صحت کے مراکز میں طبی سہولیات ،تعلیمی اداروں میں تدریسی ضروریات،روزگار کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بحالی اور جامع ترقیاتی پیکیج کے ذریعے بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے وزیراعظم افتخار گیلانی کو برفباری سے قبل لیپہ ویلی،پانڈو سیکٹرز کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے سولہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کا مطالبہ کر دیا ۔

سابق امیدوار اسمبلی شوکت نواز میر کا کہنا ہے کہ سیاسی و نظریاتی وابستگیوں سے بالائے طاق ہو کر وسیع تر عوامی مفادات کے پیشِ نظر منتخب ممبر قانون ساز اسمبلی حلقہ 7دیوان علی چغتائی کی قیادت میں وزیراعظم کا عوام فقید المثال استقبال کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:دوسرے مرحلے میں بھمبر اور میرپور میں انٹرنیٹ بحال ہوگا،وزیراعظم افتخار گیلانی

انہوں نے کہا کہ لیپہ ٹنل کی تعمیر ، اضافی حلقہ کیلئے قانون سازی، لیپہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام،50بستروں کا تحصیل ہسپتال، برتھواڑ گلی، لیپہ بائی پاس دفاعی سیاحتی سڑکوں کی تعمیر جملہ سرکاری محکموں کیلئے دفتری مکانیت ، سڑکوں کی مرمتی، گورنمنٹ گرلز ڈگری ، گورنمنٹ بوائز ڈگری کالجز سمیت تعلیمی اداروں میں اساتذہ کرام کی کمی ،سائنس کلاسز کے اجراء انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت،سردیوں میں آٹے و ادوایات کی وافر مقدارفراہمی سمیت ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف کی تعیناتی و حاضری سیاحت کے فروغ، ریشاں لیپہ روڈ کھلی رکھنے کیلئے مشینری و عملہ کی ہمہ وقت دستیابی کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول وادئ سمیت تیرہ انتخابی حلقوں کے عوام نے لگ بھگ بیس سال تک بھارتی گولہ باری سے برپا ہونے والی قیامت صغریٰ کا سامنا کیا نہ تو نقل مکانی کی نہ سفاک بھارتی افواج کے سامنے پسپائی اختیار کی بلکہ پاکستان افواج پاکستان سبز ہلالی پرچم سے عقیدت و نظریاتی رشتوں کو مضبوط کرنے میں جانوں کے نذرانے پیش کئے مگر ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:سیاحوں کیلئے جنت کا ٹکڑا، وادیِ لیپہ میں چھپا پتھری بیلا قدرتی حسن کا شاہکار

شوکت جاوید میر نے کہا مضافاتی علاقوں میں بجلی کا نظام درست کرنے ٹی ڈی کوٹہ کی منصفانہ تقسیم جنگلات کی کٹائی اور سمگلنگ روکنے کیلئے تمام مکاتب فکر کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ۔

وزیراعظم وادی لیپہ کے مسائل سے خود اچھی طرح علمیت رکھتے ہیں وہ خصوصی ترقیاتی پیکیج کے ذریعے عوام کی خواہشات نوجوان نسل کے تابناک مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام دوست فیصلے کریں۔