مردان سے انگلینڈ کے میدان تک، برمنگھم ٹیسٹ میں کئی ریکارڈز قائم کرنیوالے رضا اللہ کون ہیں؟

قومی کرکٹ ٹیم میں ایک نئے نوجوان نے بطور فاسٹ بولر اور آل راؤنڈر رضااللہ نے اپنے بین الاقوامی سفر کا آغاز دھماکہ خیز انداز میں کیا ہے۔

برمنگھم ٹیسٹ میں ڈیبیو کرنے والے رضااللہ نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی سے پاکستان کی میچ میں واپسی ممکن بنائی۔

رضااللہ نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے میچ کی پہلی اننگز میں 4 اہم وکٹیں حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی دوسری اننگز میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 81 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

انگلینڈ کی پہلی اننگز میں جاندار بولنگ کا جادو چلاتے ہوئے رضااللہ نے 23 اوورز کرائے اور 148 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انہوں نے ایمیلیو گے، جو روٹ، جیمی اسمتھ اور اولی رابنسن کو پویلین کی راہ دکھائی۔

اس کے بعد پاکستان کی دوسری اننگز میں 21 سالہ نوجوان نے بلے سے بھی شاندار جوہر دکھائے اور صرف 63 گیندوں پر 81 رنز بنا ڈالےجس میں 4 چوکے اور 9 چھکے شامل تھے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 128.57 رہا۔

رضا اللہ کی محنت کا نتیجہ تھا کہ پاکستان دوسری اننگز میں 449 رنز بنا کر انگلینڈ کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے بعد مجموعی طور پر 129 رنز کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ سیریز کے پہلے دو2 میچ پاکستان انگلینڈ کے ہاتھوں بری طرح ہار چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برمنگھم ٹیسٹ، رضا اللہ کا بلا چل گیا، پاکستان کی میچ میں واپسی، انگلینڈ کوہدف دے دیا

رضااللہ 5 اپریل 2005 کو اپر دیر میں پیدا ہونے والے رضا اللہ نے محض چند برس کی ڈومیسٹک کرکٹ کے بعد پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنائی اور آتے ہی شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے۔

رضا اللہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور دائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کرتے ہیں۔ ان کے کیریئر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ محض روایتی ٹیل اینڈر نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر نچلے آرڈر میں جارحانہ بیٹنگ سے میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں تیز رفتاری، سوئنگ اور سیم موومنٹ کے ساتھ بیٹنگ میں طاقتور اسٹروکس نے انہیں تیزی سے قومی سلیکٹرز کی نظروں میں پہنچایا۔

رضا اللہ نے ڈومیسٹک کرکٹ میں مردان انڈر 19، ایبٹ آباد ریجن انڈر 19، ایبٹ آباد ریجن، پشاور ریجن اور ساحر ایسوسی ایٹس سمیت مختلف ٹیموں کی نمائندگی کی۔

وہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، ایم آئی ٹی سلوشنز اور پاکستان گولڈ سے بھی وابستہ رہے، جبکہ 2026 میں راولپنڈی کے پی ایس ایل فرنچائز راولپنڈیز کا حصہ بنے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی ترقی خاص طور پر قابل ذکر رہی۔ صرف 9 فرسٹ کلاس میچوں میں رضا اللہ نے 34 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ بیٹنگ میں بھی 344 رنز ان کے نام ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی ایک سنچری بھی موجود ہے جو اسلام آباد کے خلاف بنائی گئی تھی۔

ان کے ڈومیسٹک ریکارڈ میں 5 وکٹوں کی 3 اننگز بھی شامل ہیں، جبکہ 4 وکٹوں کی 2 پرفارمنسس ان کی شاندار بولنگ کا ثبوت ہیں۔ ان کی رفتار بھی خاصی متاثر کن بتائی جاتی ہے اور ڈومیسٹک وائٹ بال کرکٹ میں وہ 146 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے گیند کرنے کی صلاحیت دکھا چکے ہیں۔

پی ایس ایل میں بھی موقع ملا

2026 میں رضا اللہ کو پاکستان سپر لیگ میں راولپنڈیز کی جانب سے کھیلنے کا موقع ملا۔ انہوں نے لاہور قلندرز کے خلاف 18 اپریل 2026 کو اپنا پی ایس ایل ڈیبیو کیا۔

ٹورنامنٹ میں انہیں دو میچوں میں موقع ملا اور انہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں، ان کی بہترین بولنگ 2 رنز کے عوض 45 رنز رہی۔

اگرچہ پی ایس ایل میں ان کو بیٹنگ کا اتنا موقع نہیں ملا، لیکن ڈومیسٹک سطح پر وہ بلے سے اپنی صلاحیت پہلے ہی ثابت کر چکے تھے۔

قائداعظم ٹرافی 2025 میں انہوں نے 218 رنز بنائے، جبکہ ایک میچ میں اسلام آباد کے خلاف 157 رنز کی شاندار اننگز بھی کھیلی۔

قومی ٹیم میں اچانک انٹری

انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے آخری میچ سے قبل پاکستان ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئیں اور رضا اللہ کو بھی قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ آئی سی سی کے مطابق ٹیسٹ ڈیبیو سے قبل ان کے پاس صرف 8فرسٹ کلاس میچوں کا تجربہ تھا۔

9 ستمبر 2026 کو ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف رضا اللہ نے پاکستان کی ٹیسٹ کیپ حاصل کی۔ پہلے ہی دن انہوں نے انگلینڈ کے کپتان جو روٹ کو آؤٹ کرکے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی، جبکہ اوپنر ایمیلیو گے کو بھی پویلین بھیجا۔

ریکارڈ بک میں بھی نام درج

81 رنز کی اننگز کے دوران رضا اللہ نے ٹیسٹ ڈیبیو پر کئی اہم سنگ میل عبور کیے۔ ان کے 9 چھکے ٹیسٹ ڈیبیو کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کے ریکارڈ کے برابر ہیں۔ اس فہرست میں نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی بھی 9 چھکوں کے ساتھ موجود ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے 43 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر تیز ترین ٹیسٹ ففٹی کا قومی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔

اس سے قبل پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ فہیم اشرف کے پاس تھا، جنہوں نے 2018 میں آئرلینڈ کے خلاف 50 گیندوں پر ففٹی مکمل کی تھی۔

ان کی 81 رنز کی اننگز نے انہیں ٹیسٹ ڈیبیو پر نویں نمبر یا اس سے نچلے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے بلے بازوں میں بھی شامل کردیا۔ ایجبسٹن کے شائقین نے ان کی جارحانہ بیٹنگ کو بھرپور داد دی۔