آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے دو الگ الگ اہم کیسز میں اہم فیصلے جاری کیے ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے ایک جانب 13ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہ کرنے سے متعلق دائر رٹ پٹیشن کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دیا ہے۔
13ویں آئینی ترمیم کا معاملہ قانونی لہروں میں:
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے 13ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے ابتدائی جائزہ لینے کے بعد درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اس آئینی ترمیم سے متعلق معاملے کی باقاعدہ سماعت کا فیصلہ صادر کیا ہے۔ کیس کی آئندہ کارروائی کے دوران عدالت کی جانب سے درخواست گزار کے موقف اور متعلقہ تمام فریقین کے تفصیلی قانونی دلائل سنے جائیں گے۔
مظفرآباد,آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے 13ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی۔کشمیر ڈیجیٹل کی رپورٹ pic.twitter.com/uQe3nZJ9TY
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) September 9, 2026
یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ: کشمیر بینک اور ٹوبیکو کمپنیوں کے مقدمات کی نئی تاریخیں مقرر
پی ٹی آئی بنام الیکشن کمیشن: لارجر بینچ کا حکم:
دوسری جانب، سینئر جج ہائی کورٹ جسٹس سید شاہد فاروق، جج ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد اعجاز خان اور جج ہائی کورٹ جسٹس چوہدری خالد بشیر پر مشتمل 3 رکنی لارجر بینچ نے مقدمہ عنوانی “پاکستان تحریک انصاف بنام الیکشن کمیشن” کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران پٹیشنر یا ان کے کونسل/وکیل میں سے کوئی بھی عدالت عالیہ میں پیش نہ ہوا، جس پر لارجر بینچ نے عدم پیروی کا نوٹس لیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن میں عدم رجسٹریشن کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کو مسترد اور خارج کرنے کا فیصلہ سنایا۔




