ممنوعہ ادویات کا استعمال: بھارتی کبڈی ٹیم سلور میڈل سے محروم

ممنوعہ قوت بخش ادویات کے استعمال سے بھارتی کبڈی ٹیم سلور میڈل سے محروم ہوگئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایکشن بھارتی کبڈی کھلاڑی برجندرا سنگھ چودھری کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر لیا گیا ۔

رپورٹس کے مطابق27 اپریل کو سانیا ایشین بیچ گیمز میں بھارتی کبڈی پلیئر کا ڈوپ ٹیسٹ لیا گیا تھا جس کی رپورٹ مثبت ٓآنے پر بھارتی کبڈی ٹیم سے جیتا گیا سلور میڈل واپس لے لیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ن لیگی رہنما سردار اعجاز خان سدوزئی کا نام فورتھ شیڈول میں شامل

برجندرا سنگھ کے خلاف مزید کارروائی انٹرنیشل کبڈی فیڈریشن کی طرف سے متوقع ہے۔

بھارتی کبڈی کھلاڑی برجیندر سنگھ چودھری اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کے باعث ایشین بیچ گیمز میں اپنا میڈل کھو بیٹھے ہیں۔

انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (آئی ٹی اے) کے مطابق چودھری نے خلاف ورزی کو چیلنج نہیں کیا، جس کے بعد ایشین گیمز/اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے) کے تحت ان کے ایونٹ کے نتائج کو نااہل قرار دینے کی منظوری دی گئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم آزاد کشمیر سے ایم ایل اے مریم ادریس کی ملاقات،100 روزہ پلان پر گفتگو

چودھری آل راؤنڈر ہیں اور 2024 کے پرو کبڈی لیگ سیزن میں دبنگ دہلی کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ ان کے معاملے میں آئی ٹی اے کی جانب سے منظوری جاری ہونے کے بعد بھارت میں مزید تادیبی کارروائی نہیں ہوگی، جبکہ مزید معطلی یا پابندی سے متعلق فیصلہ انٹرنیشنل کبڈی فیڈریشن کے قوانین کے تحت کیا جائے گا۔

آئی ٹی اے نے یہ کارروائی او سی اے اینٹی ڈوپنگ قوانین کے آرٹیکل 8.3.3 اور عالمی اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی مساوی شق کے تحت کی۔ مذکورہ شق کے تحت، اگر کھلاڑی اینٹی ڈوپنگ خلاف ورزی کو چیلنج نہ کرے تو باضابطہ سماعت کے بغیر بھی ایونٹ کے نتائج کو نااہل قرار دینے سمیت بعض پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

آئی ٹی اے کے مطابق، “اس معاملے کو او سی اے کے نقطہ نظر سے حل سمجھا جاتا ہے” اور اب اسے بین الاقوامی کبڈی فیڈریشن کو منتقل کیا جائے گا تاکہ اس کے قوانین کے تحت مزید نتائج کا تعین کیا جا سکے۔

آئی ٹی اے نے مزید واضح کیا کہ فیصلے سے متاثرہ اور اپیل کا حق رکھنے والی جماعتیں اس فیصلے کو کھیلوں کی ثالثی عدالت (سی اے ایس) میں چیلنج کر سکتی ہیں۔

یہ معاملہ بھارتی کبڈی کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ چودھری کا پرو کبڈی لیگ سے تعلق رہا ہے اور اب ان کے خلاف ممکنہ مزید کارروائی کا فیصلہ بین الاقوامی کبڈی فیڈریشن کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔