جہلم ویلی اور مظفرآباد: عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 ستمبر کی ہڑتال مسترد کر دی

آزاد کشمیر بھر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 ستمبر کو دی جانے والی احتجاج اور شٹر ڈاؤن کی کال کو شہریوں اور تاجر برادری نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ضلع جہلم ویلی (ہٹیاں بالا) اور دارالحکومت مظفرآباد سمیت مختلف علاقوں میں تمام تجارتی مراکز کھلے رہے اور تمام تر معمولاتِ زندگی حسبِ معمول جاری رہے۔ مظفرآباد کے مرکزی بازار اور مدینہ مارکیٹ سمیت تمام تجارتی مراکز میں دکانیں کھلی ہیں جبکہ تمام تر ٹرانسپورٹ اڈوں پر ٹرانسپورٹ کا نظام بھی معمول کے مطابق چل رہا ہے اور شہر میں مکمل طور پر پُرامن ماحول قائم ہے۔

ہٹیاں بالا اور مظفرآباد کے بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال رہیں، شہریوں کی بڑی تعداد روزمرہ کے کام کاج اور خریداری میں مصروف نظر آئی جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بھی معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔ مظفرآباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بار بار کی احتجاجی کالز سے کاروبار اور عام شہریوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے، اس لیے وہ ایسی کالز کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

شہریوں کا موقف اور بار بار کی ہڑتالوں پر تحفظات:

عام شہریوں، تاجروں اور دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ روز روز کی احتجاجی کالز اور ہڑتالوں سے شدید تنگ آ چکے ہیں، کیونکہ ایسی سرگرمیوں سے کاروباری اور روزمرہ امور بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور عام آدمی، مزدور اور دکاندار طبقے کی مشکلات اور روزگار کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم: عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال یکسر مسترد کر دی

شہریوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے جائز مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانے کے حق میں ہیں، لیکن احتجاج کا ایسا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے جس سے عام شہری اور تاجر متاثر نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اب عوام بار بار کی احتجاجی کالز پر کان دھرنے کے بجائے اپنے معمولات اور روزگار کو ترجیح دے رہے ہیں۔

عوامی تحریک کا پرتشدد رخ اور بھارتی بیانیہ

عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں اور شہریوں کے مطابق عوامی تحریک کو پرتشدد رخ دے کر بھارتی بیانیے کو پروان چڑھانے والی چند شرپسند قوتوں نے ریاست آزاد کشمیر کو یرغمال بنانے کی ناکام کوشش کی تھی، جسے آزاد کشمیر کے سچے اور محبِ وطن شہریوں نے اپنے یکجہتی اور بائیکاٹ کے عمل سے مکمل ناکام بنا دیا۔

قانونی طریقہ کار اور مذاکرات پر زور:

عوام نے زور دیا ہے کہ ہڑتالوں اور مظاہروں کے ذریعے ملک نہیں چلائے جا سکتے، اور نہ ہی ڈنڈے، تبر یا اسلحے کی نوک پر زبردستی دکانیں بند کروانے کی غنڈہ گردی کو کسی صورت برداشت کیا جائے گا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اب دو تہائی اکثریت کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہو چکی ہے، لہٰذا تمام تر اعتراضات اور مطالبات کو حکومتِ وقت کے ساتھ بات چیت، آئینی و قانونی طریقہ کار اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرایا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: وادیٔ لیپا کے قریب ریشیاں میں ٹریفک حادثہ: لوڈر جیپ کھائی میں گرنے سے 2 افراد جاں بحق

شہریوں اور وادی نیلم سمیت دیگر تمام علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ وہ کثیر تعداد میں بازاروں میں اس لیے بھی بلا خوف و خطر نکلے ہیں تاکہ بازاروں کی رونقیں بحال رکھی جا سکیں، ہڑتال کی کال کو ناکام بنایا جا سکے اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ بازار خالی ہیں۔ عوام نے اپنے عملی رویے سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ریاست میں امن اور کاروباری استحکام کا پیغام دیا ہے۔