وادی نیلم کے تمام تجارتی مراکز اور شاہراہوں پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور عوام نے کل جماعتی آزاد کشمیر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 ستمبر کو دی جانے والی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ضلعی ہیڈ کوارٹر بازار آٹھمقام سمیت وادی نیلم کے تمام تجارتی مراکز بشمول چلہانہ اور چہڑیاں سے لے کر تاؤبٹ تک تمام دکانیں اور مارکیٹیں مکمل طور پر کھلی ہوئی ہیں۔ بازاروں میں لوگوں کی شدید چہل پہل دیکھنے میں آ رہی ہے، خریدار حسبِ معمول خرید و فروخت میں مصروف ہیں، جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔
وادی نیلم میں ٹریفک کی بحالی اور عوام کا پرامن ردعمل:
ضلعی ہیڈ کوارٹر آٹھمقام سے لے کر مظفرآباد اور بالائی وادی نیلم کے علاقوں جن میں شاردا، کیل اور تاؤبٹ شامل ہیں، مین شاہراہ نیلم پر بنکر چوک (آزادی چوک) سمیت تمام روٹس پر ٹریفک مکمل طور پر بحال ہے۔ مقامی تاجروں اور شہریوں کے مطابق پہلے ہی مہنگائی کے باعث کاروباری حالات مشکل ہیں اور ایک دن دکان بند کرنے سے چھ مہینے کا نقصان ہو جاتا ہے۔ عوام کا موقف ہے کہ اپنے گھر بار اور روزگار کو چھوڑ کر سڑکوں پر آ کر ریاست، فوج یا دیگر ریاستی اداروں کے خلاف بات کرنا انہیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع نیلم میں امتحانات کے دوران دفعہ 144 نافذ: غیر متعلقہ افراد کے امتحانی مراکزمیں داخلے پر پابندی
احتجاجی بیانیے کا خاتمہ اور مذاکرات کی تجاویز:
شہریوں نے واضح کیا ہے کہ ہڑتالوں اور مظاہروں سے ملک نہیں چلتے، اور نہ ہی ڈنڈے، تبر یا اسلحے کی نوک پر دکانیں بند کروانے کی غنڈہ گردی کو برداش کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اب دو تہائی اکثریت سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہو چکی ہے، اس لیے جس کو بھی اعتراض یا مطالبات ہیں وہ حکومتِ وقت سے مذاکرات کے ذریعے حل کرائے۔
عوام کا کہنا تھا کہ وہ کثیر تعداد میں بازاروں میں اس لیے نکلے ہیں تاکہ ہڑتال کی کال کو ناکام بنایا جا سکے اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ بازار خالی ہیں۔ وادی نیلم کے رہائشیوں نے بنا کسی خوف و خطر کے تجارتی مراکز کی رونقیں بحال رکھ کر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو یکسر رد کر دیا ہے۔




