وزیراعظم کے مشیررانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث فی الحال سیمینارز، مختلف فورمز اور میڈیا تک محدود ہے جبکہ اس معاملے پر فیصلہ سازی کا اصل اور آئینی فورم پارلیمنٹ ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اب تک نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے نہ کوئی قرارداد پیش کی گئی ہے نہ کوئی بل سامنے آیا ہے اور نہ ہی اس معاملے پر باضابطہ بحث کا آغاز ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پہلے کھلے انداز میں بحث کی جائے گی، جس کے نتیجے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش ہوگی۔ اس کے بعد آئین اور قانون کے مطابق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
وفاقی مشیر نے سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے کی جانے والی تقاریر کو قبل از وقت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی ٹھوس اور باقاعدہ تجویز سامنے نہیں آتی، اس نوعیت کی تقاریر کی ضرورت نہیں، البتہ میڈیا میں بحث کو آگے بڑھانے کیلئے یہ معاملہ زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ نوازشریف نے کیا،رانا ثناء اللہ
رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے معاملے پر اپنا حتمی موقف اس وقت سامنے لائیگی جب کوئی تجویز باقاعدہ اور واضح شکل میں پیش کی جائے گی۔
ان کے مطابق احسن اقبال کی جانب سے صوبوں کے حوالے سے دیا گیا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور مسلم لیگ ن نے بحیثیت جماعت تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ فیصلہ یا حتمی موقف اختیار نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سرائیکی صوبے کے مطالبے پر پہلے کی نسبت کم بات کرنا شروع کردی ہے اور اس وقت اس کی توجہ سندھ کی تقسیم نہ ہونے کے معاملے پر زیادہ مرکوز ہے۔
ان کے بقول سندھ اسمبلی میں ہونے والی تقاریر کے پس پردہ سیاسی مقاصد، عوامی بے چینی کم کرنا اور عوامی جذبات سے وابستگی پیدا کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن بلدیاتی انتخابات کرانے جا رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:توہین عدالت کا جواب وزیر قانون یا وزیر اطلاعات نہیں، وزیر داخلہ دینگے،رانا ثناء اللہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابی عمل کا باضابطہ آغاز اکتوبر میں ہوگا جبکہ جنوری تک بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ مکمل کرلیا جائے گا۔




