مظفرآباد: آزاد کشمیر کے 6 انتخابی حلقوں کے انتخابی نتائج کے خلاف دائر درخواستیں سپریم کورٹ کی رجسٹری برانچ میں باقاعدہ زیرِ کار ہیں۔ کامیاب امیدواروں کے مدمقابل امیدواروں نے انتخابی نتائج اور مبینہ بے ضابطگیوں کو چیلنج کر رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کی رجسٹری برانچ میں زیرِ کار ان مقدمات میں عدالت نے تمام فریقین سے کنسائل سٹیٹمنٹ طلب کر رکھی ہے، جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے انتخابی نتائج اور مبینہ بے ضابطگیوں پر مختلف تحفظات اور اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
چیلنج کیے گئے انتخابی حلقے اور فریقین:
مظفرآباد کے ایل اے 31 کھاوڑہ 5 سے چوہدری لطیف اکبر نے راجہ ثاقب مجید کی کامیابی چیلنج کر رکھی ہے۔ ضلع کوٹلی کے ایل اے 12 کوٹلی 5 سے چوہدری محمد یاسین نے راجہ ریاست کے انتخابی نتیجے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے، جبکہ ایل اے 11 کوٹلی 4 سے چوہدری اخلاق احمد نے راجہ آصف کی کامیابی کو چیلنج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت سازی کے خلاف مظفرآباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر، 15 ستمبر کو سماعت ہوگی
اسی طرح ایل اے 9 کوٹلی 3 سے چوہدری جاوید اقبال بڈھانوی نے سردار عمیر نعیم کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ ضلع بھمبر کے ایل اے 5 بھمبر 1 سے چوہدری پرویز اشرف نے کرنل (ر) وقار نور کی کامیابی چیلنج کر رکھی ہے، جبکہ ایل اے 15 وسطی باغ سے مشتاق احمد منہاس نے سردار ضیاء القمر کی کامیابی کے خلاف باقاعدہ درخواست دائر کی ہے۔
آئندہ سماعت اور حتمی فیصلے کا انتظار:
ان تمام انتخابی عذرداریوں کی آئندہ سماعت 24 ستمبر 2026ء کو مقرر ہے، جس میں فریقین کی جانب سے جمع کرائی جانے والی کنسائل سٹیٹمنٹ کی روشنی میں مقدمات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
ان چھ حلقوں کے انتخابی نتائج کے حوالے سے 24 ستمبر کی سماعت کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ان تمام درخواستوں کا حتمی فیصلہ عدالتِ عظمیٰ ہی کرے گی۔




