موبائل بیلنس

پری پیڈ صارفین کیلئے بڑی سہولت، موبائل بیلنس کی مدت بڑھا دی گئی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پری پیڈ موبائل صارفین کیلئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ری چارج کے بعد موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد 180 دن مقرر کردی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد صارفین کو بیلنس کی میعاد کے حوالے سے زیادہ سہولت اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔

موبائل بیلنس 180 دن سے پہلے ختم نہیں ہوگا

پی ٹی اے کے مطابق ملک میں خدمات فراہم کرنے والے تمام موبائل آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ری چارج کے بعد صارفین کے موبائل بیلنس کی میعاد کم از کم 180 دن ہوگی۔ اس طرح صارفین کو اپنے ری چارج شدہ بیلنس کو استعمال کرنے کے لیے زیادہ وقت دستیاب ہوگا۔

فیصلے کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے ہوگا

اعلامیے کے مطابق پی ٹی اے کا یہ نیا فیصلہ یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ موبائل آپریٹرز کو مقررہ تاریخ سے نئی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ تمام پری پیڈ صارفین کو یکساں سہولت حاصل ہوسکے۔

بیلنس کم استعمال کرنیوالے صارفین کو بھی فائدہ ہوگا

نئے فیصلے سے بالخصوص ایسے پری پیڈ صارفین کو فائدہ پہنچے گا جو موبائل بیلنس باقاعدگی سے یا فوری طور پر استعمال نہیں کرتے۔ 180 دن کی کم از کم میعاد کے باعث انہیں بار بار بیلنس ری چارج کرانے یا مختصر مدت میں بیلنس ختم ہونے کی فکر کم ہوگی۔

میعاد ختم ہونے پر بیلنس مستقل ضائع نہیں ہوگا

پی ٹی اے نے صارفین کے لیے ایک اور اہم سہولت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موبائل بیلنس کی میعاد ختم ہوجائے، لیکن متعلقہ سم بدستور قابلِ استعمال ہو، تو صارف کی جانب سے دوبارہ ری چارج کرنے پر ختم شدہ بیلنس خودکار طور پر بحال ہوجائے گا۔

سم قابلِ استعمال رہنا ضروری ہوگا

اعلامیے کے مطابق ختم شدہ بیلنس کی بحالی اس صورت میں ہوگی جب صارف کی سم قابلِ استعمال حالت میں ہو۔ یعنی صرف بیلنس کی میعاد ختم ہونے سے بیلنس مستقل طور پر ختم نہیں ہوگا، تاہم سم کی حیثیت بھی اہم ہوگی۔

پی ٹی اے کا مقصد صارفین کے حقوق کا تحفظ ہے

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بیلنس کی کم از کم میعاد 180 دن مقرر کرنے کا بنیادی مقصد صارفین کے حقوق کا تحفظ، بہتر سہولیات کی فراہمی اور ٹیلی کمیونی کیشن شعبے میں منصفانہ سروسز کا فروغ ہے۔ اتھارٹی کے مطابق موبائل آپریٹرز کو نئی ہدایات پر عمل درآمد کرنا ہوگا تاکہ صارفین کو بیلنس کی مدت اور بحالی کے حوالے سے زیادہ تحفظ اور سہولت حاصل ہوسکے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:موبائل بیلنس کٹوتی سے بچنے کا آسان ترین طریقہ جانیے