“بچوں کو سکولوں سے نکال لیا جائے”سردار امان کے بیان پر شہریوں کاشدید غصے کا اظہار

راولاکوٹ دھرنے میں سردار امان کے بچوں کو اسکولوں سے نکالنے اور تعلیمی بائیکاٹ کے بیان پر مظفرآباد کے شہریوں کا شدید اور تند و تیز ردعمل سامنے آیا ہے۔ آزاد کشمیر کے دارالحکومت کے عوام نے سردار امان کے اس خطاب پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بچوں کے روشن مستقبل اور کشمیریوں کے قومی مفاد کے خلاف قرار دیا ہے۔

شہریوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور بقا کے لیے انتہائی ضروری عنصر ہے، خواہ وہ تعلیم پاکستان سے حاصل کی جائے یا کشمیر سے، اصل بنیادی مقصد تعلیم کا حصول ہی ہے۔ عوام کے مطابق سردار امان کا یہ بیان سراسر غلط ہے اور اس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار امان کے خلاف تھانہ پلندری میں مقدمہ درج

سیاسی مفاد بمقابلہ بچوں کا مستقبل:

مظفرآباد کے ایک اور شہری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سردار امان نے یہ غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے وقت معصوم بچوں کے تعلیمی مستقبل کا ذرہ برابر بھی نہیں سوچا۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم کو قربان کرنے کی بات کر کے صرف اور صرف اپنی ذاتی سیاست کو چمکانے اور اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی کوشش کی ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریکوں اور احتجاج کے نام پر بچوں کی تعلیم اور ان کے کریئر کو داؤ پر نہ لگایا جائے۔ آزاد کشمیر کے شعور رکھنے والے عوام اپنے بچوں کے تعلیمی سفر کو کسی صورت رکنے نہیں دیں گے اور تعلیمی بائیکاٹ جیسے مطالبات کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کی نئی سازش: آزاد کشمیر میں سول نافرمانی اور بجلی بلوں کی بائیکاٹ کا اعلان

مظفرآباد کے عوام نے سردار امان کشمیری کے تعلیمی بائیکاٹ والے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض سیاسی شعبدہ بازی قرار دیا ہے۔ شہریوں کا متفقہ طور پر ماننا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے بچوں کے مستقبل سے کھیلنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔