اسلام آباد میں واقع وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ مشاورتی اجلاس کے دوران آزاد کشمیر کی وزارت کے حوالے سے کی جانے والی تجویز نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور علاقائی قیادت کے درمیان اختلافات کو مزید شدید کر دیا ہے۔ اس اہم اجلاس کے دوران بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کرنے کی تجویز پر غور و خوض کیا گیا، تاہم مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی مقامی قیادت نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی مشاورت کے دوران دونوں اہم رہنماؤں شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر نے مجوزہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ دونوں رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنے تمام تحفظات اور خدشات سے پارٹی کی اعلیٰ مرکزی قیادت کو تفصیل سے آگاہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزادکشمیر کیلئے فائنل ہونیوالے بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟
مجوزہ فیصلہ مسترد اور آئندہ سیاسی حکمت عملی:
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں سینیئر رہنماؤں نے اپنے قریب ترین سیاسی رفقا اور ساتھیوں سے تفصیلی مشاورت مکمل کرنے کے بعد اپنے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر اپنے آئندہ کے تمام سیاسی فیصلوں کے حوالے سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو کل آگاہ کریں گے۔
آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے اندر پیدا ہونے والے ان شدید اختلافات نے خطے میں ایک نئی سیاسی صورتحال کو جنم دے دیا ہے۔ اس وقت آزاد کشمیر کے نیا وزیراعظم منتخب کرنے کے مرحلے سے قبل ہی مرکزی پارٹی قیادت کے لیے حالات انتہائی پیچیدہ اور مشکل شکل اختیار کر چکے ہیں۔
آزاد کشمیر کی وزارت کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت اپنے بیرسٹر افتخار گیلانی کو نامزد کرنے کے فیصلے پر قائم رہتی ہے یا پھر آزاد کشمیر کی قیادت کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی نیا سیاسی فارمولا سامنے لایا جاتا ہے۔




