اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء میں ترامیم منظور کرلیں، ایکٹ 13 نومبر 2025ء سے نافذالعمل ہوگا۔
بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے ضمنی ایجنڈے کے ذریعے پیش کیے، قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کا بل پیش کیا گیا، اس دوران اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا تاہم دونوں بل کثرت رائے سے منظور کرلئےگئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاک فوج ہمارا فخر، امید ہے نو منتخب اسمبلی مسائل حل کرے گی، سردار یعقوب خان
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی ایکٹ کی تفصیلات بھی سامنے آ گئیں،یہ قانون پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد فوری نافذ العمل ہوگیا ہے،قانون کا اطلاق 27نومبر 2025 سے ہو گا۔
چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے الفاظ شامل کئے جائیں گے ۔چیف آف ڈیفنس فورسز نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا بھی حصہ ہوں گے۔کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ بھی نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں شامل۔
یہ ایکٹ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، ایکٹ 13 نومبر 2025 سے موثر سمجھا جائے گا۔نئے ایکٹ کا مقصد مسلح افواج میں کثیر الجہتی انضمام اور بہتر مشترکہ آپریشنل صلاحیت یقینی بنانا ہے نیا قانون دیگر تمام متعلقہ قوانین، قواعد و ضوابط اور احکامات پر غالب رہے گا
دفاعی افواج کا ایک نیا ہیڈ کوارٹر قائم ہوگا جو مسلح افواج کا ہیڈکوارٹر ہوگا،چیف آف آرمی اسٹاف چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر مسلح افواج کے کمانڈر ہوں گے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی اور دفاعی امور پر وزیراعظم کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر ہوں گے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول کا کامل اختیار حاصل ہوگا، چیف آف ڈیفنس فورسز کمانڈ و کنٹرول اور تمام متعلقہ امور کے لیے وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پروپیگنڈے سے شکست کی پردہ پوشی تک: بھارتی بیانیے کا پوسٹ مارٹم
چیف آف ڈیفنس فورسز کو تعیناتیوں، ریٹائرمنٹ، سکبدوشی اور استعفے کی منظوری یا رد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔قانون کے تحت وفاقی حکومت کو قواعد و ضوابط جبکہ سی ڈی ایف کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیدیا گیا۔
کسی بھی قانونی عدم مطابقت یا مشکل کا ازالہ صدر مملکت کے حکم کے ذریعے کیا جائے گا۔ ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی جانے والی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔
قانون سازی کا مقصد 27ویں آئینی ترمیم کے بعد دفاعی کمانڈ کے نئے نظام سے موجودہ قوانین کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کیا جائے گا۔
27ویں آئینی ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب قائم کیا گیا، جس پر چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر فائز ہیں۔ اسی ترمیم کے تحت کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ بھی قائم کیا گیا ہے۔
قانون سازی کا دفاع کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ قانون سازی تکنیکی نوعیت کی ہے اور پارلیمانی رہنماؤں کو اعتماد میں لے کر کی گئی ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات کو قانون کے ذریعے واضح کیا جا رہا ہے۔




