لیڈز: ہیڈنگلے ٹیسٹ کے پہلے روز انگلینڈ کے فاسٹ بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے پاکستان کی پوری ٹیم کو 171 رنز پر آؤٹ کردیا۔
دونوں بولرز نے پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے عبداللہ شفیق نمایاں بلے باز رہے۔
یہ بھی پڑھیں:انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ،کپتان بابر اعظم باہر،سلمان آغا کپتانی کرینگے
بارش سے متاثرہ پہلے روز پاکستان کی اننگز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور اولی رابنسن نے میچ کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی۔ انگلینڈ نے ابتدائی نصف گھنٹے میں پاکستان کو صرف 6 رنز پر 2 وکٹوں سے محروم کردیا۔
اس کے بعد عبداللہ شفیق اور امام الحق نے تیسری وکٹ کے لیے 91 رنز کی شراکت قائم کرکے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا۔ عبداللہ شفیق نے 104 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی، تاہم 61 رنز بنانے کے بعد اولی رابنسن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
امام الحق بھی 91 رنز کی شراکت کے بعد جوش ٹنگ کی گیند پر سلپ میں کیچ دے بیٹھے، ان کے بعد پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکی۔
سعود شکیل کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا تاہم وہ مقررہ وقت میں ریویو لینے میں ناکام رہے، بعد میں بال ٹریکنگ سے معلوم ہوا کہ گیند وکٹ کو مس نہ کرتی، یعنی ان کا ریویو کامیاب ہوسکتا تھا۔
اولی رابنسن نے اس کے بعد ایک بار پھر پاکستان کو نقصان پہنچایا اور عبداللہ شفیق کی وکٹ حاصل کرکے اپنی چوتھی وکٹ مکمل کی۔ کپتان سلمان علی آغا کو جوش ٹنگ نے بولڈ کردیا، اگلی ہی گیند پر ٹنگ نے علی عثمان کو ایل بی ڈبلیو کرکے دو گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کرلیں۔
چائے کے وقفے تک پاکستان 7 وکٹوں کے نقصان پر 150 رنز بنا چکا تھا، جبکہ محمد رضوان 11 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔وقفے کے بعد بھی پاکستان کی مشکلات ختم نہ ہوئیں۔ جوش ٹنگ نے محمد رضوان کو بھی ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ رضوان نے بروقت ریویو لیا لیکن بال ٹریکنگ میں امپائرز کال آنے کے باعث فیصلہ برقرار رہا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کی آسٹریلیا کے خلاف تاریخی ٹیسٹ فتح، وسیم اکرم بھی متاثر
پاکستان کی جانب سے امام الحق نے 74 گیندوں پر 42 رنز بنائے اور 6 چوکے لگائے۔ کپتان سلمان علی آغا نے 29 گیندوں پر 21 رنز بنائے، جبکہ محمد رضوان 12 رنز بنا سکے۔ خرم شہزاد نے 12 گیندوں پر تیز رفتار 14 رنز کی مختصر اننگز کھیلی۔
پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے2وکٹ کے نقصان پر 112رنز بنالیے ہیں۔
بارش کے باعث کھیل میں تقریباً دو گھنٹے کی رکاوٹ بھی آئی، تاہم دوبارہ کھیل شروع ہونے کے بعد انگلینڈ کے سیم بولرز نے سازگار کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔




