غلط طبی مشورہ دینےپر چیٹ جی پی ٹی پر پہلا مقدمہ درج

آج کل مصنوعی ذہانت پر انحصار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، تاہم ایک شہری کو غلط مشورہ دے کر موت کےمنہ تک پہنچانے کی پاداش میں چیٹ جی پی ٹی پر پہلا قانونی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

برق رفتار ترقی کے موجودہ دور میں مختلف شعبے اب مصنوعی ذہانت کے تصرف میں جاتے جا رہے ہیں۔ ابتدائی دنوں میں اے آئی کے بارے میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ یہ انسانی غلطیوں سے مبرا اور بالکل پاک ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ تمام دعوے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ پہلی بار چیٹ جی پی ٹی کو ایک ایسے مقدمے کی کارروائی کا سامنا ہے جس میں اس پر ایک شہری کو غلط مشورہ دے کر اس کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈالنے اور اسے موت کے قریب پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی کی گمراہ کن طبی رہنمائی کا معاملہ:

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں “اوپن اے آئی” کمپنی کے چیٹ بوٹ “چیٹ جی پی ٹی” پر گمراہ کن طبی مشورے دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے دیے گئے مشوروں کی وجہ سے ایک امریکی شہری نے بروقت علاج حاصل کرنے میں تاخیر کی، جس کے بعد میں اسے صحت کے ایک ایسے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا جو اس کی جان لے سکتا تھا۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی چیٹ بوٹ کی رہنمائی نے اپنی طبی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے شخص کو براہ راست نقصان پہنچایا ہے۔

پادری سکاٹ ونٹرز کی جانب سے قانونی دعویٰ:

رپورٹ کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک پادری سکاٹ ونٹرز نے گزشتہ بدھ کے روز ایک انوکھا قانونی دعویٰ دائر کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے انہیں انتہائی خطرناک طبی سفارشات فراہم کی تھیں، جس کی وجہ سے وہ پھیپھڑوں کے پلمونری ایمبولزم کا بروقت اور صحیح علاج کرانے سے محروم رہے اور ان کے علاج میں تاخیر ہوئی۔ اس تاخیر کے باعث ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کیلئے چیٹ جی پی ٹی سے 50 ہزار ڈالر جیتنے کا موقع، اوپن اے آئی کا بڑا اعلان

مصنوعی ذہانت کی جانب سے طبی مشورہ لینے سے روکنا:

مقدمے کے متن میں یہ بات بھی شامل کی گئی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے پادری سکاٹ ونٹرز کو مکمل اطمینان دلایا تھا کہ ان کی صحت کے بحران کی ابتدائی علامتیں کسی سنگین معاملے کی نشاندہی نہیں کرتی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس چیٹ بوٹ نے پادری کو کسی بھی دوسرے ماہر سے طبی مشورہ لینے سے بھی باز رکھا۔ دوسری جانب، سان فرانسسکو میں کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ کے اندر دائر کیے گئے اس مقدمے میں “OpenAI” کمپنی اور اس کے سی ای او سیم آلٹمین پر شدید غفلت اور غیر مجاز طبی مشق کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

چیٹ بوٹس کا اصل ڈیزائن اور سائل کا استدعا:

یہ چیٹ بوٹس بنیادی طور پر صحت سے متعلق سوالات پوچھنے والے تمام صارفین کو ماہرین سے رجوع کرنے کی ترغیب دینے اور کسی بھی طبی بحران کے واضح اشارے ظاہر ہونے کی صورت میں گفتگو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ امریکی پادری نے اب کمپنی سے مالی ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے اور عدالت سے یہ استدعا بھی کی ہے کہ “چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ” سروس کی تمام فعال سرگرمیوں کو اس وقت تک کے لیے معطل کر دیا جائے جب تک کہ آزاد ادارے اس کے مکمل محفوظ ہونے کی تصدیق نہ کر دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ ایسی سخت ترین پابندیاں عائد کی جائیں جو چیٹ جی پی ٹی کو کسی بھی طبی تشخیص یا علاج کے منصوبوں سے متعلق جواب دینے سے مکمل طور پر روک دیں۔

مزید پڑھیں:واٹس ایپ نے صارفین کے لیے گروپ چیٹس کا نیا فیچر متعارف کرادیا

خودکشی پر اکسانے کا ایک اور سنگین مقدمہ:

واضح رہے کہ اسی ماہ کے دوران ایک اور انتہائی دلچسپ اور سنگین مقدمہ بھی سامنے آیا ہے، جس کے اندر “چیٹ جی پی ٹی” پر ایک 29 سالہ جوان ماں کو تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔