رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن لگ گیا، یورپ میں 1999 کے بعد سے پہلی بار مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا جا رہا ہے۔
یورپ کےکئی ملکوں میں سورج گرہن کے باعث دن میں رات کا منظر ہوگیا۔ برطانیہ اور فرانس میں جزوی سورج گرہن سے غروب آفتاب کے وقت سے پہلے ہی اندھیرا چھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:آنکھوں پر چشمہ ضروری:27 سال بعدآج نایاب سورج گرہن دیکھا جائےگا
سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 34 منٹ پر شروع ہوا ۔ یورپ میں گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور روس میں مکمل سورج گرہن دیکھا جارہا ہے ۔
رائل آبزرویٹری لندن سے جزوی سورج گرہن دیکھنے کیلئے سیکڑوں لوگ جمع ہوگئے۔ لوگ کھانے پینے کا سامان لے کر پکنک منانے کے موڈ میں گرینچ پارک پہنچ گئے۔
انگلینڈ کے علاقے کارنوال میں سورج کو 95 فیصد گرہن لگے گا۔اس کے علاوہ افریقا، کینیڈا اور امریکا کےکچھ حصوں میں بھی جزوی سورج گرہن ہوگا۔
کئی ممالک میں مکمل سورج گرہن ختم ہو چکا ہے، جبکہ یورپ کے مختلف حصوں میں نظر آنے والا جزوی گرہن بھی بتدریج اختتام پذیر ہوگیاتاہم فلک بینی کے شوقین افراد کے لیے دلچسپی کی ایک اور وجہ موجود ہے۔
گرہن کے اختتام کے چند ہی گھنٹوں بعد شہابیوں کی ایک شاندار بارش آسمان پر دکھائی دینے کی توقع ہے، جس میں متعدد روشن شہابِ ثاقب آسمان پر تیزی سے گزرتے نظر آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سورج سے نکلنے والا خوفناک طوفان زمین سے ٹکرانے کا امکان، الرٹ جاری
ماہرین کے مطابق ایک ہی ہفتے میں دو نمایاں فلکیاتی مظاہر کا رونما ہونا آسمان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے۔





