پاکستان کرکٹ ٹیم 3 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کے لیے انگلینڈ پہنچ گئی، جہاں بابر اعظم کی قیادت میں قومی ٹیم 19 اگست سے ہیڈنگلے، لیڈز میں میزبان انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں میدان میں اترے گی۔
دورہ انگلینڈ سے قبل سابق قومی کپتان اور وکٹ کیپربیٹر راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) مینجمنٹ کو بابر اعظم سے متعلق اہم حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔
انگلینڈ کا دورہ آسان نہیں، راشد لطیف
پاکستان ٹیم کے ساتھ 1992، 1996 اور 2001 میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والے راشد لطیف کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کا دورہ ہمیشہ ایک مشکل دورہ ہوتا ہے۔
ان کے مطابق انگلش میڈیا بعض اوقات مہمان ٹیم کو غیر ضروری طور پر خبروں میں الجھانے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے پاکستانی ٹیم کو میڈیا سے متعلق حکمت عملی میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
بابر اعظم پر انگلش میڈیا کی خصوصی نظر ہوگی
راشد لطیف نے کہا کہ دورہ انگلینڈ کے دوران قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر انگلش میڈیا کی خصوصی توجہ ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں، تاہم بہتر ہوگا کہ پی سی بی مینجمنٹ انہیں غیر ضروری میڈیا سرگرمیوں سے دور رکھے تاکہ وہ اپنی توجہ کھیل پر مرکوز کرسکیں۔
شان مسعود کو میڈیا کے سامنے بھیجنے کی تجویز
سابق کپتان نے پی سی بی کو مشورہ دیا کہ انگلینڈ میں میڈیا سے گفتگو کے لیے سابق کپتان شان مسعود کو زیادہ مواقع دیے جائیں۔
راشد لطیف کے مطابق شان مسعود انگلینڈ میں کرکٹ کھیل چکے ہیں اور انہیں انگلش میڈیا سے بات چیت کا بہتر تجربہ ہے، اس لیے وہ اس ذمہ داری کے لیے موزوں انتخاب ہوسکتے ہیں۔
امام الحق اور محمد عباس بھی آپشن قرار
راشد لطیف نے شان مسعود کے علاوہ امام الحق اور محمد عباس کو بھی میڈیا کے لیے اچھے انتخاب قرار دیا۔
ان کے مطابق ان کھلاڑیوں کو بھی میڈیا سرگرمیوں میں آگے لایا جاسکتا ہے تاکہ کپتان بابر اعظم پر غیر ضروری دباؤ کم ہو اور وہ ٹیسٹ سیریز کی تیاری پر مکمل توجہ دے سکیں۔
19 اگست کو پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ سے مقابلہ
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا میچ 19 اگست کو ہیڈنگلے، لیڈز میں کھیلا جائے گا۔
دورہ انگلینڈ قومی ٹیم کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا، جبکہ بابر اعظم کی قیادت، ٹیم کی کارکردگی اور میڈیا مینجمنٹ بھی سیریز کے دوران خاص توجہ کا مرکز رہیں گے۔




