امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہونے والی ہے اور آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی کم ہو سکتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ خود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل ہیں اور اس حوالے سے بہت اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران زیادہ دیر تک امریکا کے سامنے نہیں ٹک سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے جاری جنگ کے باعث امریکی اسلحے کے ذخائر پر پڑنے والے اثرات کا بھی اعتراف کیا اور بتایا کہ اس جنگ کی وجہ سے امریکا کے اسلحے کے ذخائر متاثر ہوئے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا مجوزہ معاہدہ:
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آج یا کل میں معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے، جس کے تحت 30 سے 60 روز کی جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرط بھی لازمی طور پر شامل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی اسپیکر اورچیف مذاکرات کار باقر قالیباف کا ٹرمپ کے بیانات پر ردِعمل، مذاکرات کی پیشکش
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر فریقین کے درمیان یہ معاہدہ کامیابی کے ساتھ طے پا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پورے خطے میں جاری شدید کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔
عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر اثرات:
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے عالمی منڈیوں پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آنی چاہیے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مزید بات چیت کرنے اور دیگر معاملات کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔




