بلوچ طالبہ

بلوچ طالبہ نے بی ایل اے اغواء اور بلیک میلنگ کا الزام عائد کردیا

کالعدم بی ایل اے کی قیدسے فرار ہونیوالی بلوچستان کے ضلع خضدار کی طالبہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہےجس میں اس نے بتایا ہے کہ اسے سوشل میڈیا کے ذریعے دوستی کے جال میں پھنسایا گیا، اغواء کے بعد جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرکے کالعدم تنظیم کیلئے کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

طالبہ کے مطابق اسے کالج کے ایک لڑکے کی جانب سے سوشل میڈیا پر دوستی کی درخواست موصول ہوئی، جس کے بعد دونوں کے درمیان کئی روز تک گفتگو جاری رہی۔ اس نے بتایا کہ بعد ازاں وہ مذکورہ لڑکے سے کالج کے قریب ملاقات کیلئے گئی، جہاں سے اسے مبینہ طور پر اغوا ءکرلیا گیا۔

طالبہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا کہ اغوا کے بعد اسے جنسی تشدد اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی نازیبا ویڈیو بھی بنائی گئی۔ اس کے بقول بعد میں اسی ویڈیو کو بنیاد بنا کر اسے بلیک میل کیا گیا اور کالعدم بی ایل اے کے لیے کام کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:لسبیلہ: سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، کالعدم بی ایل اے کے 4 دہشتگرد واصل جہنم

اس نے بتایا کہ ایک موقع پر اسے فرار ہونے کا موقع ملا، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کالعدم تنظیم کے مبینہ چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ فرار کے بعد اس نے اپنے والد کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا، جس پر اس کے والد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا۔ طالبہ کے مطابق متعلقہ اداروں نے اسے محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

ویڈیو بیان کے ساتھ سامنے آنے والے دعووں میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ کالعدم بی ایل اے مبینہ طور پر کم عمر اور نوجوان بلوچ لڑکیوں کو سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے ورغلا کر اپنے جال میں پھنساتی ہے، بعد ازاں ان کا جنسی استحصال کرکے ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور انہی ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بی ایل اے کی اندرونی لڑائی شدید:سوشل میڈیا ہولڈرباہوٹ بلوچ کا بھائی حیات خان قتل

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض لڑکیوں کو بلیک میلنگ کے ذریعے تنظیم کیلئے مختلف سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے، انہیں خودکش حملوں کیلئے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ ایسی سینکڑوں لڑکیاں مبینہ طور پر اس صورتحال کا شکار ہیں اور انہیں اس چنگل سے نکالنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔