ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پر خلوص دعوت پر ہم نے مکہ مکرمہ کا دورہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک ترکی سعودی عرب دفاعی معاہدہ، شاہ نعمت اللہ ولی کی 600 سال پرانی پیشگوئی سچ ثابت
دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی ، اس موقع پر ہم نے تینوں ممالک کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پردستخط کیے۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ اجتماعی دفاعی صلاحیت پر مبنی یہ معاہدہ ہماری سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، یہ معاہدہ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کے فروغ اور دہشت گردی کےخلاف موثر تعاون میں اہم کردار ادا کریگا۔
ترکیہ کے صدر نے کہا یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں بیان کردہ دفاع کے حق کی بھی توثیق کرتا ہے، یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، یہ معاہدہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیےکھلا ہے۔
رجب طیب اردوان نے کہا ترکیے بات چیت اور سفارتکاری سے تنازعات اور بحرانوں کو حل کرنے کے اصولی مؤقف پر گامزن رہے گا، اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں معاہدہ ہمارے پورے خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا ذریعہ بنے۔
یہ بھی پڑھیں:دفاعی معاہدہ خوشحال مستقبل کا ضامن ، ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، دفتر خارجہ
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ المکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق کسی بھی ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائیگا۔




