راولپنڈی اور اسلام آباد میں مہاجرین کشمیر کی تین نشستوں پر پولنگ کا عمل جاری ہے، جہاں ووٹرز نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ انتخابی عمل کے پیش نظر تمام پولنگ اسٹیشنز کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔
انتخابات کے امن و امان کی صورتحال اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے راولپنڈی پولیس کے چار ہزار اہلکار الیکشن ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انتخابی انتظامیہ کی جانب سے 18 حساس پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔
پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی اور ضوابط:
الیکشن کمیشن اور سیکیورٹی حکام کی جانب سے طے شدہ ضوابط کے تحت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کے اندر پولنگ عملے کے موبائل فون استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تمام 196 پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ التوا ناقابل فہم ہے: سردار عبدالشکور کی الیکشن کمیشن پر تنقید
حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے آنے والے تمام ووٹرز کے لیے ووٹ کاسٹ کرتے وقت اصل قومی شناختی کارڈ ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ووٹرز کی رہنمائی اور انتخابی عمل کو سہل بنانے کے لیے پولیس اور الیکشن کمیشن کا عملہ پولنگ اسٹیشنز پر موجود ہے۔
ووٹرز کی تعداد، امیدوار اور انتخابی صورتحال:
رجسٹرڈ ووٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق ایل اے 44 ویلی 5 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 7 ہزار ہے، جبکہ ایل اے 43 ویلی 4 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 35 سو ہے۔ علاوہ ازیں، ایل اے 39 جموں 6 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 37 ہزار ہے۔
مہاجرین کشمیر کے ان تینوں حلقوں میں کل 34 امیدوار میدان میں ہیں جن کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ صبح کے اوقات اور پولنگ کے ابتدائی مرحلے میں ووٹنگ کا عمل فی الحال سست روی کا شکار دیکھا جا رہا ہے۔




