مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل )بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزراء کے درمیان ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہونیوالی ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، انتخابی ماحول اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیاسی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق رائے،دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات کو بہتر بنانے کیلئے مشترکہ سیاسی کمیٹی کے قیام پر بھی غور، جلد پیشرفت کا امکان ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن : 4 سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن ختم ، نوٹیفکیشن جاری
ملاقات میں آزاد کشمیر میں شفاف، پرامن اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو مشترکہ ترجیح قرار دیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے سیاسی کشیدگی کم کرنے، رابطوں میں تسلسل برقرار رکھنے اور باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیاگیا۔
اس ملاقات میں وفاقی وزراء رانا ثنا اللہ اور امیر مقام موجود تھے ۔۔پیپلز پارٹی نے آزادکشمیر الیکشن کے حوالے سے وفاقی وزراء کے سامنے اپنے تحفظات پیش کردیئے ۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزراء نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو مسائل باہمی مشاورت سے حل کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان دوسرے مرحلے کے عام انتخابات کیلئے سکیورٹی مزید سخت بنانے، حساس علاقوں میں اضافی انتظامات کرنے پر اتفاق طے پا گیا۔
ذرائع کے مطابق انتخابی مہم کے دوران کسی بھی سیاسی رہنما یا کارکن کی جانب سے اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن مہم 31جولائی اور یکم اگست کی درمیانی شب ختم،الیکشن کمیشن کا اعلامیہ جاری
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اتفاق پایا کہ انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
پہلے مرحلے میں سامنے آنے والی بدانتظامیوں کے پیش نظر دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے مزید سخت انتظامات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان اس اہم ملاقات میں انتخابی ضابطہ اخلاق پر مؤثر عملدرآمد اور پرامن انتخابی ماحول برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔




