مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) دارالحکومت مظفرآباد اور گردونواح میں قیامت خیز طوفانی بارش اور بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
برساتی نالے میں طغیانی کے باعث مدرسے سے گھر واپس جانے والی دو لڑکیاں ریلے میں بہہ گئیں، جن میں سے ایک کو مقامی افراد نے ریسکیو کر لیا جبکہ دوسری کی تلاش جاری ہے۔
بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں اور رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن نتائج پر تحفظات،فوج کی نگرانی میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے،فیصل ممتاز راٹھور
تفصیلات کے مطابق دارالحکومت کے علاقے موری گوجرہ اور ٹامی روڈ پر ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مدرسے سے گھر واپس آنے والی دو لڑکیاں (عمریں تقریباً 23 اور 24 سال) اچانک آنے والے تیز رفتار برساتی ریلے کی زد میں آ گئیں۔
خوش قسمتی سے مقامی افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک لڑکی کو بروقت بچا لیا تاہم دوسری لڑکی تیز پانی کے ریلے میں بہہ گئی جس کی تلاش کیلئے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
بادل پھٹنے کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے شہر کے مختلف حصوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ پُلی ٹانگہ اسٹینڈ سے اوپر جانے والی سڑک بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بھر میں آج رات سے انٹرنیٹ سروس معطل، نوٹیفکیشن جاری
طوفانی بارش سے لوہار گلی روڈ اور شاہراہِ نیلم ویلی مین روڈ نالے میں طغیانی کے باعث چہلہ کے مقام سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکے ہیں، جس سے مسافروں اور مقامی آبادی کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔
سیلابی ریلے بابو محلہ کے رہائشی علاقوں میں بھی داخل ہو گئے ہیں، جہاں نالے کی حفاظتی دیوار ٹوٹنے سے ایک گھر مکمل طور پر زیرِ آب آ گیا اور اس کے صحن کی بڑی دیوار گر گئی۔
نشیبی علاقوں کے متعدد دیگر گھروں اور دکانوں میں بھی پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ سیلاب کی زد میں آ کر ایک رکشے کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ اور مقامی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔




