حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے اثرات کو کچھ حد تک کم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 2 ہزار روپے ریلیف دینے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ پیٹرولیم لیوی میں کمی کرنے کے بجائے کیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب وزارت خزانہ نے 430 ارب روپے کے دستیاب ہنگامی فنڈز کے استعمال سے واضح طور پر انکار کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس ریلیف اسکیم کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کا ابتدائی اطلاق 3 ماہ کے لیے ہوگا۔ اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل مالکان کو تقریباً 2 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی رقم کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم کی جانب سے کیا جائے گا۔ اس ریلیف کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ آئی ٹی کی طرف سے ایک جدید طریقہ کار بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی اور کروڑوں موٹر سائیکل صارفین کے لیے مراعات کا فقدان
وزارتِ خزانہ کا مؤقف اور معاشی پس منظر:
رپورٹس کے مطابق کابینہ کے بعض وزرا کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ پیٹرولیم لیوی میں کمی کی جائے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ریونیو کے نقصان کو 430 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز سے پورا کیا جائے، لیکن وزارتِ خزانہ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ ان ہنگامی فنڈز کے استعمال سے جاری عالمی مالیاتی پروگرام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں پیٹرول پر 106 روپے جبکہ ڈیزل پر 101 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول تقریباً 376 روپے اور ڈیزل 403 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے تحفظات اور عوامی ردعمل:
معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکل مالکان کو 2 ہزار روپے ماہانہ دینے کا یہ اقدام ایک محدود اور عارضی نوعیت کا سیاسی قدم ہے جو عوام کی معاشی مشکلات کا مستقل حل پیش نہیں کرتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ ریلیف صرف موٹرسائیکل تک محدود رہا تو چھوٹی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرایوں سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے طوفان کو روکنا مشکل ہوگا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کے خلاف عوامی غیض و غضب کے پیشِ نظر جماعت اسلامی نے بھی 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومت کو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم کرنے کے بجائے بنیادی معاشی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔




