اسلام آباد سے جاری اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر مقرر کیے جانے کے بعد گزشتہ ہفتے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں متواتر اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث عوام پر مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی سے لے کر 25 جولائی کے عرصے میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 24 روپے 47 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ میں فی لیٹر 60 روپے 16 پیسے کی مجموعی بڑھوتری کی گئی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کے روزانہ کے نرخوں کی تفصیل:
حکومت کی جانب سے 18 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 31 روپے 5 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔ اس اقدام کے بعد 21 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے کی معمولی کمی لائی گئی، تاہم اسی روز ڈیزل کے نرخ میں مزید 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ،نوٹیفکیشن جاری
اگلے مرحلے میں 22 جولائی کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 93 پیسے اور ڈیزل میں 7 روپے 15 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 23 جولائی کو پیٹرول 6 روپے 39 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کیا گیا۔
جولائی کے آخری ایام میں قیمتوں کا ردوبدل:
اس کے بعد 24 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے اور ڈیزل میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں 25 جولائی کے لیے جاری کیے گئے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 66 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 80 پیسے کا مزید اضافہ کر دیا گیا۔
اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ 17 جولائی کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 310 روپے 71 پیسے تھی، جو 25 جولائی تک مسلسل بڑھتے ہوئے 335 روپے 18 پیسے ہو گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل، جو 17 جولائی کو 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر کی سطح پر دستیاب تھا، 25 جولائی تک اس کی قیمت بڑھ کر 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ، نوٹیفکیشن جاری
ماہرین کی آرا اور متوقع اثرات:
معاشی ماہرین کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ہونے والے اس مسلسل ردوبدل کے نتیجے میں نہ صرف نقل و حمل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، بلکہ خوراک کی اشیا سمیت دیگر تمام ضروری اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔




