کیا ثالث امریکا کی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ ایرانی سفیر رضا امیری کا تیکھا سوال

اسلام آباد: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی خواہش پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے عالمی برادری کو خطے کی صورتحال پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے امریکی نیت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے اور دوسری طرف فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جو کہ تضاد کا عکاس ہے۔

ایرانی سفیر نے دو ٹوک الفاظ میں سوال کیا کہ کیا مذاکرات کا یہ نیا موقع محض دوبارہ حملے کی تیاری کے لیے ایک وقفہ حاصل کرنا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب وہ پرانا فارمولا ہرگز قبول نہیں کرے گا جس میں پہلے حملہ کیا جاتا ہے، پھر جنگ بندی اور مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر دوبارہ حملہ کر دیا جاتا ہے۔ رضا امیری مقدم نے عالمی ضمانتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی یقین دہانی موجود ہے کہ یہ سلسلہ دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا؟ اور کیا ثالث ملک اب امریکی ضمانتوں پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: مقاصد کی تکمیل تک جنگ جاری رہے گی، ٹرمپ کا ایران پر شدید حملوں کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو یہ دیکھنا ہوگا کہ بار بار وعدہ خلافی کون کر رہا ہے اور آخر معاہدے کیوں ٹوٹتے ہیں؟ ایرانی سفیر کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی یا پھر اعتماد کا ایک گہرا بحران ہے جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: ’معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکہ دو یا تین ہفتوں میں ایران سے نکل جائے گا‘ڈونلڈ ٹرمپ کا عندیہ