طاہرہ توقیر کا ایکشن کمیٹی کی انتشاری سیاست بارے پروگرام پھر وائرل

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)گزشتہ چند ماہ قبل طاہرہ توقیر نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں معروف اینکر وسینئر صحافی مجتبیٰ بٹ کیساتھ پروگرام میں پیشگوئی کی تھی کہ ایکشن کمیٹی انتشار کی سیاست کررہی ہے ۔

طاہرہ توقیر نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں  جو جو باتیں پروگرام میں کیں آج من وعن سچ ثابت ہونے لگیں۔

طاہرہ توقیر نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں کہا تھا کہ ایکشن کمیٹی والے ہر بار پولیس کے سامنے لوگوں کو کھڑا کر دیتے ہیں، ہم پولیس والوں کو بچائیں یا عوام کو۔ یہ عوام کو بند گلی میں دھکیل رہے ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:قومی وقار کی لازوال داستان پر مبنی کیپٹن اسفند یار بخاریسریز جلد ٹی وی پردکھائی جائے گی

طاہر توقیر کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے منہ کو خون لگ گیا ہے”یہ اپنی لیڈری چمکانے کے لیے افراتفری پھیلانے کا پلان تیار کرچکے ہیں ۔

طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ سٹیج سے بہت سخت تقاریر بھی ہوتی ہیں مگر کبھی بھی پاکستان کے اداروں نے کبھی بھی سختی سے ایسے لوگوں کو جواب نہیں دیا۔

کبھی انتقامی رویہ نہیں دیکھا گیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور یرغمال تک بنا کر انہیں تشدد کا نشانہ بناتی ہیں ۔ جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔

طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ جب آزادکشمیر سے انکو ایسا مواد ملے گا توبھارتی میڈیا انتہائی غلیظ پراپیگنڈا کرنا شروع کردیتا ہےاس معاملے کو دنیا میں کس طرح سے دکھائیں گے، اس سے توتحریک آزادی کو نقصان پہنچتا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی: اہم شخصیات کا آئی پی پی میں شمولیت کا اعلان

ایکشن کمیٹی والےاپنی “لیڈری” چمکانے کیلئے لوگوں کو ایسے انتشار میں ڈال دیتے ہیں جس سے ریاست کے اندر افراتفری ہو، لوگوں کا نقصان ہو۔شاید ایکشن کمیٹی کے منہ کو خون لگ چکا ہے۔

طاہرہ توقیر کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی بھی امان اللہ خان، یاسین ملک یا توقیر گیلانی کو ریاست پاکستان کیخلاف بیان بازی کرتے نہیں دیکھا ۔ تنقیدی پہلو جمہوریت اور ریاستی آزادی کا حصہ ہے ۔