بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں مقبول نوجوان رہنما برہان وانی کی برسی کے موقع پر آج 8جولائی کو یوم تجدید عہد منایا جائیگا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے ایک بیان میں نئی دہلی کے غیر قانونی قبضے سے کشمیر کی آزادی کے لیے شہداء کے مشن کے لیے کشمیری عوام کے عزم کا اعادہ کرنے کی غرض سے یوم تجدیدِ عہد منانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف مجلہ ماہنامہ کشمیر الیوم کے زیراہتمام برہان وانی شہید کی یاد میں مشاعرہ
انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آج برہان وانی کی دسویں برسی کے موقع پر کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شہداء کی قبروں پر حاضری دیں۔
ترجمان نے کہا کہ کشمیری شہداء بھارتی قبضے کے خلاف بھرپور مزاحمت کی علامت ہیں اور شہداء کا خون تحریک آزادی میں نئی روح پھونکتا رہے گا۔
ممتاز کشمیری نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی 8 جولائی کو منائی جانے والی دسویں برسی بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف کشمیری عوام کی مقامی تحریکِ آزادی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے جو نوجوانوں اور قیادت کی عظیم قربانیوں کو نمایاں طور پر اجاگر کرتی ہے۔
برہان وانی ایک ذہین اور باصلاحیت طالب علم تھے جنہوں نے کم عمری میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو قریب سے دیکھا۔
انہوں نے 16 اکتوبر 2010 کو مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کی جس کی وجہ بھارتی فورسز کے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کو قرار دیا جاتا ہے۔بطور کمانڈر حزب المجاہدین، برہان وانی کشمیری مزاحمت کی ایک نمایاں علامت بن گئے۔
انہوں نے فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر آن لائن ذرائع کے ذریعے کشمیری مؤقف کو اجاگر کیا جس کے باعث وہ خصوصاً نوجوانوں میں مقبول ہوئے۔
چھ برس تک وہ بھارتی سکیورٹی اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج سمجھے جاتے رہے اور جدید مواصلاتی ذرائع کے استعمال سے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
برہان وانی کو ایک ذہین اور باصلاحیت مزاحمتی رہنما قرار دیا گیا ہے، جو آل پارٹیز حریت کانفرنس کے مؤقف کی حمایت کرتے تھے۔ وہ اور ان کے ساتھی دن کے وقت آرام کرتے اور رات کے وقت جنوبی کشمیر میں نقل و حرکت کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر سے 23 سال بھارتی جیل میں گزارنے والے حریت پسند کا پاکستانی قیادت کے نام خط سوشل میڈیا میں وائرل
مقامی آبادی کی حمایت کے باعث وہ متعدد مرتبہ بھارتی فوج کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔8 جولائی 2016 کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے برہان وانی کو ایک کارروائی میں شہید کر دیا۔
ان کی شہادت کے بعد وادی میں کئی ماہ تک احتجاج اور بدامنی کا سلسلہ جاری رہا جس میں 100 سے زائد افراد شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اسی دوران سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیر کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔
برہان وانی کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور انہیں اپنے بڑے بھائی خالد مظفر وانی کی قبر کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔




